بتائیں اور کروں کیا خراب میں اس کو ؟
کہ ٹھیک لگنے لگا ہوں جناب! میں، اس کو
بے تو بُوئے گُل مرا دودِ کبابِ بُلبُل است
جلوۂ شبنم، نمک پاشیدنِ زخمِ گُل است
تیرے بغیر، میرے لئے پھولوں کی خوشبو ایسے ہے جیسے کے بلبل کے جلنے کی بُو، اور اوس کا گرنا ایسے ہے جیسے پھولوں کے زخموں پر نمک پاشی!
تمہاری آنکھیں ، سمندر کے پانیوں سے بنی
تمہارے ھونٹ ، بنائے گئے گلابوں سے
”میثم علی آغا“