تمہاری آنکھیں ، سمندر کے پانیوں سے بنی
تمہارے ھونٹ ، بنائے گئے گلابوں سے
”میثم علی آغا“
تمہاری آنکھیں ، سمندر کے پانیوں سے بنی
تمہارے ھونٹ ، بنائے گئے گلابوں سے
”میثم علی آغا“
کم سے کم تُو تو مِری ذات پہ اُنگلی نہ اُٹھا
لاکھ سورج ہوں مگر تجھ پہ تو سایہ ہوا ہوں
میثم علی آغاؔ
میثم علی آغا...
قدم قدم پہ جہنم سہارتا ہوا میں
تمہارے ہجر سے خود کو گزارتا ہوا میں...
یہ پور پور اذیت میں ڈالتے ہوئے تم
یہ سانس سانس محبت پکارتا ہوا میں...
پھر ایک رات اذیت سے مر گیا تھا کہیں
تمہارے عشق کو اندر سے مارتا ہوا میں...
عجب نہیں ہے کسی روز قتل ہوجاؤں
تمہاری جان کا صدقہ اتارتا ہوا میں...
معاف کرنا ترا ساتھ دے نہیں پایا
پلٹ رہا ہوں محبت میں ہارتا ہوا میں...