AddThis
Tuesday, 24 December 2019
سعود عثمانی
Tuesday, 9 October 2018
سعود عثمانی
جانا انجانا
یہ جان رکھنا کہ زندگی کی ہر ایک ساعت رواں دواں ہے
یہ دھیان رکھنا
کہ چند لمحوں کی یہ رفاقت بس ایک چھوٹی سی داستاں ہے
یہ ختم ہوگی تو یوں لگے گا کہ جیسے دھندلا سا خواب کوئی
نظر کی حد پر سراب کوئی
ذرا یہ سوچو کہ حافظے کا کھلا سمندر
نہ جانے کتنے رفیق و ہمدم سمو چکا ہے
رفیق چہرے جو نام تک اپنے کھو چکے ہیں
وہ سارے ساتھی جو اب فراموش ہوچکے ہیں
بھلا ہی دینا اگر یونہی وقت کا عمل ہے
تو یہ اٹل ہے
کہ مدتوں بعد یوں بھی ہوگا
اگر سرِ راہ اتفاقاً کبھی جو ہم تم کہیں ملیں گے
تو اپنے دل میں یہی کہیں گے
کہ اِس کا چہرہ تو آشنا تھا
خبر نہیں اس کا نام کیا تھا
یہ شخص جانے کہاں ملا تھا
(سعود عثمانی )
Wednesday, 8 August 2018
سعود عثمانی
کبھی کبھی مری آنکھوں میں خواب کِھلتا ہے
یہی وہ پھول ہے جو زیر ِ آب کھلتا ہے
قبائے سرخ سنہرا بدن بھی چاہتی تھی
کہاں ہر ایک پہ رنگ ِ شراب کھلتا ہے
یہ کون ہے کہ دریچے شگفت ہونے لگے
جھروکے پھوٹتے ہیں ، بند باب کھلتا ہے
کسی کسی کو میسر ہے جستجو تیری
کسی کسی پہ یہ باغ ِ سراب کھلتا ہے
لہو کی باس ہواؤں میں رچنے بسنے لگی
کھلا وہ زخم کہ جیسے گلاب کھلتا ہے
گل ِ سخن بھی ہے غالب کی مے کشی جیسا
بروز ِ ابر و شب ِ ماہتاب کھلتا ہے