AddThis

Welcome, as the name suggests, this blog is all about fantasy, literature, art and storytelling. Feedback/suggestions are welcomed. Enjoy! and follow for regular updates...
Showing posts with label نامعلوم. Show all posts
Showing posts with label نامعلوم. Show all posts

Friday, 3 January 2020

نا معلوم

بتائیں اور کروں کیا خراب میں اس کو ؟
کہ ٹھیک لگنے لگا ہوں جناب! میں، اس کو

Thursday, 5 September 2019

دو سطری

‏روک لیتاہوں توکہتی ہےکہ جانےدومجھے "

جانےدیتاہوں توکہتی ہےیہی چاہت تھی ؟

Saturday, 17 August 2019

دوسطری

میرے لئے تو یہ بھی اذیت کی بات تھی

تجھ کو بھی دل کا حال سنانا پڑا مجھے

Tuesday, 23 July 2019

قطعہ


ہر گز مجھے قبول نہیں ضد تری کہ میں
خود داریوں کو بیچ کر پاس وفا کروں

یہ سر مجھے عزیز ہے عزت کی حد تلک
عزت نہیں تو سر کا میں گردن پہ کیا کروں

Saturday, 22 June 2019

دو سطری

اس معرکے میں  عشق بیچارہ کرے گا کیا

خود حسن کو ہیں جان کے لالے پڑے ہوئے

Saturday, 1 June 2019

دوسطری

کہا تھا کس نے کہ عہدِ وفا کرو اُس سے
جو یوں کیا ہے تو پھر کیوں گلہ کرو اُس سے

Sunday, 5 May 2019

دوسطری

ﮐﻮﻥ ﮐﺲ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﮐﻮ ﺍٓﺗﺎ ﮨﮯ
ﻭﻗﺖ ﮨﮯ ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﺑﯿﺖ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ

Wednesday, 3 April 2019

آزاد نظم

کئی دنوں سے
مجھے وہ میسج میں لکھ رہی تھی
جنابِ عالی
حضورِ والا
بس اِک منٹ مجھ سے بات کر لیں
میں اِک منٹ سے اگر تجاوز کروں
تو بے شک نہ کال سننا
میں زیرِ لب مُسکرا کے لکھتا
بہت بزی ہوں
ابھی نئی نظم ہو رہی ہے
وہ اگلے میسج میں پھر یہ لکھتی
سسکتی روتی بلکتی نظموں کے عمدہ شاعر
تم اپنی نظمیں تراشو لیکن
کبھی تو میری طرف بھی دیکھو
کبھی تو مجھ سے بھی بات کر لو
بس اِک منٹ میری بات سُن لو
میں ہنس کے لکھتا
فضول لڑکی
بہت بزی ہوں
بس اِک منٹ ہی تو ہے نہیں ناں
وہ کئی دنوں تک خموش رہتی
پھر ایک دن میں نے اُس کی حالت پہ رحم کھا کر
جواب لکھا
بس اِک منٹ ہے
اور اِک منٹ سے زیادہ بالکل نہیں سنوں گا
تو اس نے اوکے لکھا اور اِک دم سے کال کر دی
میں کال پِک کر کے چُپ کھڑا تھا
وہ گہرا لمبا سا سانس لے کر
اُداس لہجے میں بولی سر جی
میں جانتی ہوں کہ اِک منٹ ہے
اور اِک منٹ میں
میں اپنے اندر کی ساری باتیں کسی بھی صورت نہ کہہ سکوں گی
سلگتی ہجرت زدہ رُتوں کو اُداس نظموں میں لکھنے والے
عظیم شاعر
خُدا کی دھرتی پہ رہنے والے
اُداس لوگوں کا دُکھ بھی لکھنا
کبھی محبت میں جلتے لوگوں کا دُکھ سمجھنا
کبھی کسی نظم میں بتانا جنہیں تمہاری رفاقتیں ہی کبھی میسر نہیں ہوئی ہیں
جنہیں تمہاری محبتیں ہی کھبی میسر نہیں ہوئی ہیں
کبھی جو محرومیوں کے موسم بہت ستائیں تو کیا کریں وہ
کبھی جو تنہائیوں کی شامیں بہت رُلائیں تو کیا کریں وہ
ابھی تو آدھا منٹ پڑا تھا
مگر وہ لائن سے ہٹ چکی تھی
وہ اِک منٹ کی جو کال تھی ناں
وہ تیس سیکنڈ میں کٹ چکی تھی
میں کتنے برسوں سے اگلا آدھا منٹ گزرنے کا منتظر ہوں
وہ نرم لیکن اُداس لہجے میں بات کرتی
اُداس لڑکی مِری سماعت کے
اَدھ کھلے دَر سے یونہی اب تک لگی ہوئی  ہے
ہٹی نہیں ہے
بہت سے سالوں سے چل رہی ہے
وہ کال اب تک کٹی نہیں ہے

Tuesday, 2 April 2019

دوسطری

شعر کہنے میں اِک خرابی ہے
لوگ آہوں پہ واہ کرتے ہیں

Saturday, 30 March 2019

دوسطری

عالم میں اب تلک بھی مذکور ہے ہمارا
افسانہ محبت مشہور ہے ہمارا

Wednesday, 13 March 2019

نامعلوم

‏ہم کسی کام کے نہیں ورنہ
وہ کسی کام سے  ہی آ جاتا

Sunday, 27 January 2019

نامعلوم

آپ کو کیا خبر محبت کی
ہونے والوں کو ہو گئی ہو گی

عشق پانی پہ چل رہا ہو گا
عقل کشتی بنا رہی ہو گی

Thursday, 8 November 2018

نا معلوم

پَت جھڑ کی برسات ہو جیسے
ایسی اُس کی باتیں تھیں
جھیل سمجھ رہے تھے جن کو
وہی تو اُس کی آنکھیں تھیں

Wednesday, 26 September 2018

نا معلوم

اداس لوگوں کی بستیوں میں
وہ تتلیوں کو تلاش کرتی
وہ ایک لڑکی . . .

وہ گول چہرہ ، وہ کالی آنکھیں
جو کرتی رہتی ہزار باتیں
مزاج سادہ ، ، ، وہ دل کی اچھی
وہ ایک لڑکی . . .

ساری باتیں وہ دل کی مانے
وہی کرے وہ ، جو دل میں ٹھانے
کوئی نا جانے ، ، کیا اس کی مرضی
وہ ایک لڑکی . . .

وہ چاہتوں کے سراب دیکھے
محبتوں کے وہ خواب دیکھے
وہ خود سمندر مگر ہے پیاسی
وہ ایک لڑکی . . .

وہ دوستی کے نصاب جانے
وہ جانتی ہے عہد نبھانے
وہ اچھی دوست وہ اچھی ساتھی
وہ ایک لڑکی . . .

وہ جام چاہت کا پینا چاھے
وہ اپنے مرضی سے جینا چاھے
مگر ہے ڈرتی ، ، ، مگر ہے ڈرتی
وہ ایک لڑکی . . .

محبتوں کا جو فلسفہ ہے
وہ جانتی ہے ، ، ، اسے پتہ ہے
وہ پھر بھی رہتی ڈری ڈری سی
وہ ایک لڑکی . . .

وہ جھوٹے لوگوں کو سچا سمجھے
وہ ساری دنیا کو اچھا سمجھے
وہ کتنی سادی ، ، ، وہ کتنی پگلی
وہ ایک لڑکی

Saturday, 25 August 2018

نا معلوم

کی ترک محبت تو لیا درد جگر مول
پرہیز سے دل اور بھی بیمار پڑا ہے

Friday, 17 August 2018

نا معلوم

‏سارے مجھ کو سمجھ سکیں
اتنی سب میں سمجھ کہاں ہے

Saturday, 4 August 2018

نامعلوم

"‏محتسب نے کردی واجب موسمِ برسات میں"
‏آگئے ہم سادہ دل تھے میکشوں کی بات میں

Monday, 30 July 2018

دوسطری

اُن کی محفل سے تصوّر کا تعلّق ہے ہمیں
آنکھ کرلیتے ہیں جب بند، وہیں ہوتے ہیں

Saturday, 28 July 2018

نا معلوم

لگتا ھے کہ واعظ کا ھے وجدان بھی کافر
کمبخت کو لگتے ھیں مسلمان بھی کافر

Friday, 27 July 2018

نا معلوم

سب نے مشہور کیا مجھ سے محبت ہے تجھے
مجھ کو اچھے لگے ـــــــــــ الزام لگانے والے