مستغنی از گل است مزارِ شهیدِ عشق
ای غنچه لب ، تو بر سرِ خاکم بیا بخند
(بیدل)
" عشق کے شہید کا مزار پھول کا محتاج نہیں ھوتا ، اے کلی (جیسے تنگ ) منھ والے ! میری قبر پہ آکے ھنس دے "
عالم بہ وجودِ من و تو موجود است
گر موج و حباب نیست، دریا ھم نیست
(ابو المعانی مرزا عبدالقادر بیدل)
یہ عالم میرے اور تیرے وجود کی وجہ سے موجود ہے، اگر موج اور بلبلے نہ ہوں تو دریا بھی نہیں ہے۔
صد سنگ شد آئینہ و صد قطرہ گہر بست
افسوس ھماں خانہ خرابست دل ما
سینکڑوں پتھر آئینہ اور سینکٹروں قطرے موتی بن گئے ، افسوس کہ ابھی تک میرے دل کا خانہ خراب ہے۔