AddThis
Monday, 10 February 2020
عرشی بھوپالی
Friday, 3 January 2020
Tuesday, 24 December 2019
سعود عثمانی
Friday, 29 November 2019
Tuesday, 26 November 2019
Tuesday, 19 November 2019
دوسطری
Saturday, 16 November 2019
Wednesday, 13 November 2019
Sunday, 10 November 2019
مرزا عبدالقادر بیدل
Wednesday, 6 November 2019
جہان ملک خاتون
Wednesday, 30 October 2019
شیخ یعقوب صرفی
خلیل الرحمٰن اعظمی
Monday, 28 October 2019
Sunday, 27 October 2019
خواجہ وزیر لکھنوی
Saturday, 28 September 2019
سید علی مطہر اشعر
کوئی ابہام نہ رہ جائے سماعت کے لئے
بات کی جائے تو تصویر بنا دی جائے
وہ بھی مجرم ہے بغاوت نہیں کی ہے جس نے
اس کو نا کردہ گناہی کی سزا دی جائے
ساری بستی کو پرکھنا تو مناسب بھی نہیں
ایک دروازے کی زنجیر ہلا دی جائے
ہاتھ جب اٹھ ہی گئے ہیں تو بلا اِستثناء
اس ستم گر کو بھی جینے کی دعا دی جائے
دم بھی گھٹ جائے تو پندار کی تذلیل نہ ہو
روزنِ در سے کسی کو نہ صدا دی جائے
میری آواز بھی اب اُس پہ گراں ہے اشعرؔ
آسماں تک کوئی دیوار اٹھا دی جائے
سید علی مطہر اشعر
Thursday, 19 September 2019
آزاد نظم
زبانوں کا بوسہ
زبانوں کے رس میں یہ کیسی مہک ہے!
یہ بوسہ کہ جس سے محبت کی اُٹھتی ہے خوشبو
یہ بدمست خوشبو جو گہرا، غنودہ نشہ لا رہی ہے
یہ کیسا نشہ ہے!
مرے ذہن کے ریزے ریزے میں اک آنکھ سی کھل گئی ہے
تم اپنی زباں میرے منہ میں رکھے,
جیسے پاتال سے میری جاں کھینچتے ہو,,
یہ بھیگا ہوا گرم و تاریک بوسہ
اماوس کی کالی برستی ہوئی رات جیسے اُمڈتی چلی آ رہی ہے
ریاض ملک