AddThis

Welcome, as the name suggests, this blog is all about fantasy, literature, art and storytelling. Feedback/suggestions are welcomed. Enjoy! and follow for regular updates...

Monday, 10 February 2020

عرشی بھوپالی

نگاہِ شوق  سے  کب  تک  مقابلہ کرتے 
وہ  التفات  نہ کرتے  تو  اور  کیا کرتے 

یہ رسمِ ترکِ محبت  بھی  ہم ادا کرتے 
تیرے  بغیر  مگر  زندگی  کو  کیا کرتے 

غرورِ حُسن  کو  مانوسِ التجا  کرتے 
وہ ہم ہیں کہ جو خود داریاں فنا کرتے 

کسی کی یاد نے تڑپا دیا پھر آ کے ہمیں 
ہوئی تھی دیر نہ کچھ دل سے مشورا کرتے

یہ پوچھو حُسن کو الزام دینے والوں سے 
جو وہ ستم بھی نہ کرتا تو آپ کیا کرتے

ستم شعار ازل سے ہے حُسن کی فطرت 
جو میں وفا بھی نہ کرتا تو وہ جفا کرتے

ہمیں تو اپنی تباہی کی داد بھی نہ ملی 
تری  نوازشِ بیجا  کا  کیا  گلا  کرتے

نگاہِ ناز  کی  معصومیت  ارے  توبہ
جو ہم فریب نہ کھاتے تو اور کیا کرتے 

نگاہِ لطف کی تسکیں کا شکریہ، لیکن 
متاعِ درد کو کس دل سے ہم جدا کرتے

(عرشی بھوپالی)

Friday, 3 January 2020

نا معلوم

بتائیں اور کروں کیا خراب میں اس کو ؟
کہ ٹھیک لگنے لگا ہوں جناب! میں، اس کو

Tuesday, 24 December 2019

سعود عثمانی

یہ دشتِ دل ہے'یہاں کوئی بھی نہیں آتا
سو ہم نےدفن یہیں سب خزانہ کردیا ہے

سعودعثمانی ۔۔۔!!!

Friday, 29 November 2019

آنس معین

میں اپنی ذات کی تنہائی میں مقید تھا
پھر اس چٹان میں اک پھول نے شگاف کیا
آنس معین

دوسطری

‏‎کچھ اہلِ ستم، کچھ اہلِ حشم مے خانہ گرانے آئے تھے..
دہلیز کو چوم کے چھوڑ دیا دیکھا کہ یہ پتھر بھاری ہے..

Tuesday, 26 November 2019

عبد الحمید عدم

کہتے ہیں عمر رفتہ کبھی لوٹتی نہیں 
جا مے کدے سے میری جوانی اٹھا کے لا 
عبد الحمید عدم

Tuesday, 19 November 2019

دوسطری

تا به زُلفِ سِیَهش دل بستم
از پریشانیِ عالَم رَستم
(ظهیرالدین محمد بابُر)

جُوں ہی میں نے اُس کی زُلفِ سیاہ سے دل باندھا، مَیں پریشانیِ عالَم سے رَہا ہو گیا۔۔۔۔

Saturday, 16 November 2019

ڈاکٹر خالد سہیل

محبت ایک بچے کا کھلونا
محبت ایک بوڑھے کا عصا ہے 

Wednesday, 13 November 2019

دوسطری

ﮐﻞ ﺑـﮯ ﻭﺟﮧ ﮐﺘﺎﺏ ﺳـﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﻮ ﮈﮬﺎﻧﭗ ﮐﺮ

ﺗﺎ ﺩﯾــﺮ ﺗﯿﺮﯼ ﯾﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺭﮬﺎ ﮐﻮﺋﯽ...!!

Sunday, 10 November 2019

مرزا عبدالقادر بیدل

مستغنی از گل است مزارِ شهیدِ عشق

ای  غنچه لب ‌، تو بر سرِ خاکم بیا بخند

(بیدل)

    " عشق کے شہید کا مزار پھول کا محتاج نہیں ھوتا ، اے کلی (جیسے تنگ ) منھ والے ! میری قبر پہ آکے ھنس دے "

Wednesday, 6 November 2019

جہان ملک خاتون

به خُدایی که جُز او نیست خُداوندِ جهان
که مرا عشقِ تو شد در همه دم هم‌دمِ جان
(جهان‌ملِک خاتون)

اُس خُدا کی قسم کہ جِس کے بجُز [کوئی] خُداوندِ جہان نہیں ہے!۔۔۔ کہ تمہارا عشق ہر دم میری جان کا ہم‌دم ہو گیا [ہے]۔۔۔

Wednesday, 30 October 2019

حیدر علی آتش

عدم سے دہر میں آنا کسے گوارا تھا 
کشاں کشاں مجھے لائی ہے آرزو تیری 
۔۔۔۔۔۔
حیدر علی آتش

شیخ یعقوب صرفی

گرچه دانم که به وصلِ تو رسیدن نتَوان
لیکن از راهِ طلب پای کشیدن نتَوان
(شیخ یعقوب صَرفی کشمیری)

اگرچہ میں جانتا ہوں کہ تمہارے وصل تک نہیں پہنچا جا سکتا۔۔۔ لیکن راہِ طلب سے پاؤں نہیں کھینچا جا سکتا۔۔۔

خلیل الرحمٰن اعظمی

نہ جانے کس کی ہمیں عمر بھر تلاش رہی 
جسے قریب سے دیکھا وہ دوسرا نکلا 
خلیل الرحمن اعظمی 

Monday, 28 October 2019

تیمور حسن تیمور

تیمور  اپنے درد کا احساس تب ہوا 
جب اس نے یہ کہا کہ بتانا تو تھا مجھے
 

Sunday, 27 October 2019

دو سطری

تُمھارے حق میں کوئی فیصلہ ھُوا ھوگا

جو یہ نظام تُمھیں مُنصفانہ لگتا ھے

خواجہ وزیر لکھنوی

اسی خاطر تو قتل عاشقاں سے منع کرتے تھے

اکیلے پھر رے ہو یوسف بے کارواں ہو کر

(خواجہ وزیر لکھنوی)

Saturday, 28 September 2019

سید علی مطہر اشعر

کوئی ابہام نہ رہ جائے سماعت کے لئے
بات کی جائے تو تصویر بنا دی جائے
وہ بھی مجرم ہے بغاوت نہیں کی ہے جس نے
اس کو نا کردہ گناہی کی سزا دی جائے
ساری بستی کو پرکھنا تو مناسب بھی نہیں
ایک دروازے کی زنجیر ہلا دی جائے
ہاتھ جب اٹھ ہی گئے ہیں تو بلا اِستثناء
اس ستم گر کو بھی جینے کی دعا دی جائے
دم بھی گھٹ جائے تو پندار کی تذلیل نہ ہو
روزنِ در سے کسی کو نہ صدا دی جائے
میری آواز بھی اب اُس پہ گراں ہے اشعرؔ
آسماں تک کوئی دیوار اٹھا دی جائے

سید علی مطہر اشعر

Thursday, 19 September 2019

آزاد نظم

زبانوں کا بوسہ

زبانوں کے رس میں یہ کیسی مہک ہے!
یہ بوسہ کہ جس سے محبت کی اُٹھتی ہے خوشبو
یہ بدمست خوشبو جو گہرا، غنودہ نشہ لا رہی ہے
یہ کیسا نشہ ہے!
مرے ذہن کے ریزے ریزے میں اک آنکھ سی کھل گئی ہے
تم اپنی زباں میرے منہ میں رکھے,
جیسے پاتال سے میری جاں کھینچتے ہو,,
یہ بھیگا ہوا گرم و تاریک بوسہ
اماوس کی کالی برستی ہوئی رات جیسے اُمڈتی چلی آ رہی ہے

ریاض ملک

اکبر الہ آبادی

تیار تھے نماز پہ ہم سن کے زکر حور
جلوہ بتوں کا دیکھ کے نیت بدل گئی
اکبر الہ آبادی