زبانوں کا بوسہ
زبانوں کے رس میں یہ کیسی مہک ہے!
یہ بوسہ کہ جس سے محبت کی اُٹھتی ہے خوشبو
یہ بدمست خوشبو جو گہرا، غنودہ نشہ لا رہی ہے
یہ کیسا نشہ ہے!
مرے ذہن کے ریزے ریزے میں اک آنکھ سی کھل گئی ہے
تم اپنی زباں میرے منہ میں رکھے,
جیسے پاتال سے میری جاں کھینچتے ہو,,
یہ بھیگا ہوا گرم و تاریک بوسہ
اماوس کی کالی برستی ہوئی رات جیسے اُمڈتی چلی آ رہی ہے
ریاض ملک