AddThis

Welcome, as the name suggests, this blog is all about fantasy, literature, art and storytelling. Feedback/suggestions are welcomed. Enjoy! and follow for regular updates...

Monday, 15 October 2018

سید ہمایوں مرزا حقیر

چشمِ مخمور سے بیخود جو نہ ہو جاتے ہم
دل کو آتشکدہ اور چشم کو دریا کرتے

کر کے بسمل جو ہمیں چھوڑ دیا قاتل نے
ہم تڑپتے کہ اسے دیکھتے کیا کیا کرتے

سید ہمایوں میرزا حقیر

Sunday, 14 October 2018

علی زریون

حالت جو ہماری ہے تمہاری تو نہیں ہے
ایسا ہے تو پھر یہ کوئی یاری تو نہیں ہے
جتنی بھی بنا لی ہو، کما لی ہو یہ دنیا
دنیا ہے تو پھر دوست ! تمہاری تو نہیں ہے
تحقیر نہ کر ! یہ مِری اُدھڑی ہُوئی گدڑی
جیسی بھی ھے اپنی ہے ادھاری تو نہیں ہے
یہ تُو جو محبت میں صلہ مانگ رہا ہے
اے شخص تو اندر سے بھکاری تو نہیں ہے ؟
میں " ذات" نہیں، بات کے نشّے میں ہوں پیارے
اس وقت مجھے تیری خماری تو نہیں ہے
تنہا ہی سہی ، لڑ تو رہی ہے وہ اکیلی
بس تھک کے گری ہے ابھی ہاری تو نہیں ہے
مجمع سے اُسے یوں بھی بہت چڑ ہے کہ زریون
عاشق ہے مری جان ! مداری تو نہیں ہے
علی زریون

شاکر شجاع آبادی

اساں شاکر __ لوگ آوارہ جئے
ساکوں پیار نہ کر برباد ہو سی

Saturday, 13 October 2018

پیر نصیر الدین نصیر گولڑوی

بے خودی میں نہ رہی ہم کو نصیر اپنی خبر
ہوش آیا تو ہمیں جلوہءِ جاناں نکلے

Tuesday, 9 October 2018

سعود عثمانی

جانا انجانا

یہ جان رکھنا کہ زندگی کی ہر ایک ساعت رواں دواں ہے
یہ دھیان رکھنا
کہ چند لمحوں کی یہ رفاقت بس ایک چھوٹی سی داستاں ہے
یہ ختم ہوگی تو یوں لگے گا کہ جیسے دھندلا سا خواب کوئی
نظر کی حد پر سراب کوئی
ذرا یہ سوچو کہ حافظے کا کھلا سمندر
نہ جانے کتنے رفیق و ہمدم سمو چکا ہے
رفیق چہرے جو نام تک اپنے کھو چکے ہیں
وہ سارے ساتھی جو اب فراموش ہوچکے ہیں

بھلا ہی دینا اگر یونہی وقت کا عمل ہے
تو یہ اٹل ہے
کہ مدتوں بعد یوں بھی ہوگا
اگر سرِ راہ اتفاقاً کبھی جو ہم تم کہیں ملیں گے
تو اپنے دل میں یہی کہیں گے
کہ اِس کا چہرہ تو آشنا تھا
خبر نہیں اس کا نام کیا تھا
یہ شخص جانے کہاں ملا تھا

(سعود عثمانی )

Saturday, 6 October 2018

علی زریون

یہ دنیا بھی عجب قصہ ہے صاحب
نہیں لگتا، مگر دھوکا ہے صاحب
یہ چرچا جو ہمارے نام کا ہے
تمھارے عشق کا صدقہ ہے صاحب
ابھی پرہیز رکھئے گفتگو سے
زوالِ عصر کا لمحہ ہے صاحب
طبیعت میں ذرا گرمی ہے اس کی
مگر وہ آدمی ہیرا ہے صاحب
تمھارے ہاں نہیں ہوتا ہے جو کچھ
ہمارے ہاں وہی ہوتا ہے صاحب
بچشمِ خشک مت پڑھنا اسے تم
کہ یہ مصرع نہیں شعلہ ہے صاحب
بجا فرما رہے ہیں آپ یعنی
ہمیں کچھ اور ہی سودا ہے صاحب
اسے دیوارِ گریہ ہی سمجھئیے
جنابِ میر کا حجرہ ہے صاحب
خدا کی شان ہے، جو تیرے آگے
اگر یہ آینہ زندہ ہے صاحب
اب ایسے بھی تو لا وارث نہیں ہم
ہمارا بھی کوئی اپنا ہے صاحب
اسے خط میں فقط اتنا لکھا ہے
ترے بن جی نہیں لگتا ہے صاحب
تو یہ بھی کوئی چالاکی ہے اس کی؟
اگر وہ ان دنوں تنہا ہے صاحب؟
چلو جھوٹا سہی لیکن یہ جھوٹا
ترے ’’سچوں‘‘ سے تو اچھا ہے صاحب
تو ظاہر ہے کہ پھر تیکھا تو ہو گا
علی زریون کا لہجہ ہے صاحب

Friday, 5 October 2018

جون ایلیاء

خود کو ڈانٹوں گا ساری باتوں پہ
جانے کس بات پر خفا ہے وہ۔ ۔ ۔