AddThis

Welcome, as the name suggests, this blog is all about fantasy, literature, art and storytelling. Feedback/suggestions are welcomed. Enjoy! and follow for regular updates...
Showing posts with label علی زریون. Show all posts
Showing posts with label علی زریون. Show all posts

Sunday, 14 October 2018

علی زریون

حالت جو ہماری ہے تمہاری تو نہیں ہے
ایسا ہے تو پھر یہ کوئی یاری تو نہیں ہے
جتنی بھی بنا لی ہو، کما لی ہو یہ دنیا
دنیا ہے تو پھر دوست ! تمہاری تو نہیں ہے
تحقیر نہ کر ! یہ مِری اُدھڑی ہُوئی گدڑی
جیسی بھی ھے اپنی ہے ادھاری تو نہیں ہے
یہ تُو جو محبت میں صلہ مانگ رہا ہے
اے شخص تو اندر سے بھکاری تو نہیں ہے ؟
میں " ذات" نہیں، بات کے نشّے میں ہوں پیارے
اس وقت مجھے تیری خماری تو نہیں ہے
تنہا ہی سہی ، لڑ تو رہی ہے وہ اکیلی
بس تھک کے گری ہے ابھی ہاری تو نہیں ہے
مجمع سے اُسے یوں بھی بہت چڑ ہے کہ زریون
عاشق ہے مری جان ! مداری تو نہیں ہے
علی زریون

Saturday, 6 October 2018

علی زریون

یہ دنیا بھی عجب قصہ ہے صاحب
نہیں لگتا، مگر دھوکا ہے صاحب
یہ چرچا جو ہمارے نام کا ہے
تمھارے عشق کا صدقہ ہے صاحب
ابھی پرہیز رکھئے گفتگو سے
زوالِ عصر کا لمحہ ہے صاحب
طبیعت میں ذرا گرمی ہے اس کی
مگر وہ آدمی ہیرا ہے صاحب
تمھارے ہاں نہیں ہوتا ہے جو کچھ
ہمارے ہاں وہی ہوتا ہے صاحب
بچشمِ خشک مت پڑھنا اسے تم
کہ یہ مصرع نہیں شعلہ ہے صاحب
بجا فرما رہے ہیں آپ یعنی
ہمیں کچھ اور ہی سودا ہے صاحب
اسے دیوارِ گریہ ہی سمجھئیے
جنابِ میر کا حجرہ ہے صاحب
خدا کی شان ہے، جو تیرے آگے
اگر یہ آینہ زندہ ہے صاحب
اب ایسے بھی تو لا وارث نہیں ہم
ہمارا بھی کوئی اپنا ہے صاحب
اسے خط میں فقط اتنا لکھا ہے
ترے بن جی نہیں لگتا ہے صاحب
تو یہ بھی کوئی چالاکی ہے اس کی؟
اگر وہ ان دنوں تنہا ہے صاحب؟
چلو جھوٹا سہی لیکن یہ جھوٹا
ترے ’’سچوں‘‘ سے تو اچھا ہے صاحب
تو ظاہر ہے کہ پھر تیکھا تو ہو گا
علی زریون کا لہجہ ہے صاحب

Wednesday, 25 July 2018

علی زریون

فرقت نہ انتظار ہے، بس یادِ یار ہے
!اک پل میں بار بار ہے بس یادِ یار ہے

دنیا میں جس کے نام کا چرچا ہے، میں نہیں
!میرا کہاں شمار ہے ! بس یادِ یار ہے

Friday, 20 July 2018

علی زریون

تُو اب آلودہ ء دنیا ہے سو اس تخت کو چھوڑ
تُو اسی وقت مرے دل سے اتر جا مرے دوست !

ہاں ! مِرے پاس کوئی رمز کوئی فقر نہیں
سن لیا تُو نے ؟ چل اٹھ ! خیر سے گھر جا مِرے دوست !

تم سمجھتے ہو مجھے اِس کی کوئی فکر نہیں؟
میں تو خود دل سے یہ کہتا ہوں سُدھر جا مرے دوست !

یہ جو تُو روز ہی کہتا ہے " چلا جاؤں گا"
میں تو کہتا ہوں کہ یہ کام بھی کر جا مِرے دوست !

Thursday, 19 July 2018

علی زریون

عشق کے ہاتھوں مر کر دیکھو، ایسا انوکھا قاتل ہے
زندہ کر کے رکھ دیتا ہے اتنا سوہنا مارتا ہے
صرف ہمی ہیں جو تجھ پر پورے کے پورے مرتے ہیں
ورنہ کسی کو تیری آنکھیں، کسی کو لہجہ مارتا ہے

۔۔۔۔۔

چلو جھوٹا سہی لیکن یہ جھوٹا
تیرے سچوں سے تو اچھا ہے صاحب
طبیعت میں ذرا گرمی ہے اس کی
مگر وہ آدمی ہیرا ہے صاحب
اسے خط میں فقط اتنا لکھا ہے
تیرے بن جی نہیں لگتا ہے صاحب

۔۔۔۔۔

قربتِ لمس کو گالی نہ بنا جانے دے
پیار میں جسم کو یکسر نہ مٹا جانے دے
تو جو ہر روز نئے حسن پہ مر جاتا ہے
تو بتاۓ گا مجھے عشق ہے کیا ، جانے دے

۔۔۔۔۔

ڈرے ہوؤں نے تمہیں بھی ڈرا دیا ورنہ
خدا تو پیار سکھاتا ہے کچھ نہیں کہتا

Thursday, 14 June 2018

علی زریون

ہر اک جابر سے انکاری رہے گی
محبت حمد ہے جاری رہے گی !

یونہی نادِ علی پڑھتا رہوں گا
میری للکار دو دھاری رہے گی !

ہم ایسے کہنے والے جب تلک ہیں
غزل بندوق پر بھاری رہے گی !

علی اک شعر ایسا سن لیا ہے
کئی دن تک تو سرشاری رہے گی !

Tuesday, 5 September 2017

پسند ہے ؟

بات کرے تو کھل اٹھوں، لمس ملے تو جل اٹھوں
روح الگ پسند ہے، جسم جدا پسند ہے
بِھیڑ بہت ہے دوستا ! ایک ہی جاں ہے میرے پاس
وقف کروں ترے لئے؟ جلدی بتا ؟ پسند ہے ؟؟

علی زریون