AddThis

Welcome, as the name suggests, this blog is all about fantasy, literature, art and storytelling. Feedback/suggestions are welcomed. Enjoy! and follow for regular updates...
Showing posts with label جون ایلیا. Show all posts
Showing posts with label جون ایلیا. Show all posts

Sunday, 21 April 2019

رحمان فارس

🌹نذرِ جان ایلیا🌹

تُو میرے رُوکھے پن پر تلملا نئیں
مَیں جتنا بے مروّت اب ھُوں، تھا نئیں

خوشی بےحد سُہانی کیفیت ھے
مگر غم سے زیادہ دیرپا نئیں

مِرے اشکوں کو مت بہلائیں، جائیں
یہ میرا مسئلہ ھے، آپ کا نئیں

تو کیا تیرا نہیں ھے تیرا مُنکر ؟
تو کیا تُو اپنے مُنکر کا خُدا نئیں ؟

چلو مانا نہیں جَون ایلیا مَیں
مگر تُو بھی تو کوئی فارھہ نئیں

“محبت ھوگئی” کہنا غلط ھے
محبت زندگی ھے، واقعہ نئیں

مُجھے الزام مت دے، بنتِ حوّا !
مَیں آدم ھُوں، فرشتہ نئیں، خُدا نئیں

یہی ھے داستانِ وصلِ جاناں
کہ کچھ کچھ تو ھُوا، کچھ کچھ ھُوا نئیں

تکلّف چھوڑ فارس ! پاؤں پڑ جا
ابھی وہ جانے والا ھے، گیا نئیں

رحمان فارس

Wednesday, 14 November 2018

جون ایلیا

کربِ تنہائی ہے وہ شے! کہ خدا
آدمی کو پکار اٹھتا ہے!

Friday, 5 October 2018

جون ایلیاء

خود کو ڈانٹوں گا ساری باتوں پہ
جانے کس بات پر خفا ہے وہ۔ ۔ ۔

Wednesday, 12 September 2018

جون ایلیاء

ہم جی رہے ہیں کوئی بہانہ کیے بغیر
اس کے بغیر ، اس کی تمنا کیے بغیر

انبار اس کا پردہِ حرمت بنا میاں
دیوار تک نہیں گری ، پردہ کیا بغیر

یاراں! وہ جو ہے میرا مسیحائے جان و دل
بے حد عزیز ہے مجھے ، اچھا کیے بغیر

میں بسترِ خیال پہ لیٹا ہوں اس کے پاس
صبحِ ازل سے کوئی تقاضا کیے بغیر

اس کا ہے جو بھی کچھ ، ہے مرا اور میں مگر
وہ مجھ کو چاہیے کوئی سودا کیے بغیر

یہ زندگی جو ہے اسے معنی بھی چاہیے
وعدہ ہمیں قبول ہے ، ایفا کیے بغیر

اے قاتلوں کے شہر! بس اتنی سی عرض ہے
میں ہوں نہ قتل ، کوئی تماشا کیے بغیر

مرشد کے جھوٹ کی تو سزا بےحساب ہے
تم چھوڑیو نہ شہر کو ، صحرا کیے بغیر

ان آنگنوں میں کتنا سکون و سرور تھا
آرائشِ نظر تری ، پروا کیے بغیر

یاراں! خوشا! یہ روز و شبِ دل کہ اب ہمیں
سب کچھ ہے خوشگوار ، گوارا کیے بغیر

گریہ کناں کی فرد میں اپنا نہیں ہے نام
ہم گریہ کن ازل کے ہیں ، گریہ کیے بغیر

آخر ہیں کون لوگ جو بخشے ہی جائیں گے
تاریخ کے حرام سے ، توبہ کیے بغیر

سنی بچہ وہ کون تھا ، جس کی جفا نے جون
شیعہ بنا دیا ہمیں ، شیعہ کیے بغیر

اب تم کبھی نہ آؤ گے ، یعنی کبھی کبھی
رخصت کرو مجھے کوئی وعدہ کیے بغیر

Sunday, 29 July 2018

جون ایلیا

تھا ستم بار بار کا ملنا
لوگ بھاتے چلے گئے ہوں گے

جون ایلیاء

Tuesday, 24 July 2018

جون ایلیا

بات کوئی امید کی مجھ سے نہیں کہی گئی
سو میرے خواب بھی گئے سو میری نیند بھی گئی

دل کا تھا ایک مدعا جس نے تباہ کر دیا
دل میں تھی ایک ہی تو بات، وہ جو فقط سہی گئی

جانے کیا تلاش تھی جون میرے وجود میں
جس کو میں ڈھونڈتا گیا جو مجھے ڈھونڈتی گئی

ایک خوشی کا حال ہے خوش سخن کے درمیاں
عزت شائقین غم تھی جو رہی سہی گئی

بود و نبود کی تمیز، ایک عذاب تھی کہ تھی
یعنی تمام زندگی، دھند میں ڈوبتی گئی

اس کے جمال کا تھا دن، میرا وجود اور پھر
صبح سے دھوپ بھی گئی، رات سے چاندنی گئی

جب میں تھا شہر ذات کا تھا میرا ہر نفس عذاب
پھر میں وہاں کا تھا جہاں حالت ذات بھی گئی

گرد فشاں ہوں دشت میں سینہ زناں ہوں شہر میں
تھی جو صبائے سمت دل، جانے کہاں چلی گئی

تم نے بہت شراب پی اس کا سبھی کو دکھ ہے جون
اور جو دکھ ہے وہ یہ ہے تم کو شراب پی گئی

Friday, 13 July 2018

جون ایلیا

مجھ کو دھوکا دے گیا میرا ذوق انتخاب
جو لوگ میرے نہ تھے مجھے وہی اچھے لگے
جون ایلیاء

Tuesday, 21 November 2017

جون ایلیا

آپ اک اور نیند لے لیجئے
قافلہ کوچ کر گیا کب کا
آپ اب پوچھنے کو آئے ہیں
دل میری جان, مر گیا کب کا
۔
جون ایلیا

Saturday, 4 November 2017

جون ایلیا

زلفِ پیچاں کے خم، سنوار ے ہیں
مجھ کو پھر پیش، نئے اشار ے ہیں

آج وہ بھی، نظر نہیں آتے
کل جو کہتے تھے، ہم تمہار ے ہیں

ہم نشیں اک تیر ے نہ ہونے سے
بڑی مشکل سے، دن گزار ے ہیں

تجھ کو پا کر بھی، کچھ نہیں پایا
تیر ے ہو کر، بھی بے سہار ے ہیں

ان رفیقوں سے شرم آتی ہے
جو میرا ساتھ د ے کے ہار ے ہیں

جون ہم زندگی کی راہوں میں
اپنی تنہا روی کے مار ے ہیں

جون ایلیاء ۔۔۔!!