مرا دو چشم تو انداخت در بلائے سیاه
وگرنہ من کہ و مستی و عاشقی ز کجا
(عبید زاکانی)
مجھے تو تیری دو آنکھوں نے سیاہ بلا میں مبتلا کر دیا ہے، وگرنہ میں کیا (کہاں) اور مستی اور عاشقی کہاں۔
مرا دو چشم تو انداخت در بلائے سیاه
وگرنہ من کہ و مستی و عاشقی ز کجا
(عبید زاکانی)
مجھے تو تیری دو آنکھوں نے سیاہ بلا میں مبتلا کر دیا ہے، وگرنہ میں کیا (کہاں) اور مستی اور عاشقی کہاں۔
نیکیِ پیرِ مُغاں بیں کہ چو ما بَدمستاں
ہر چہ کردیم، بچشمِ کَرَمش زیبا بُود
پیرِ مغاں کی نیکی تو دیکھ کہ ہم جیسے بد مستوں نے، جو کچھ بھی کیا وہ اسکی نگاہِ کرم میں اچھا (مناسب) تھا۔
مُطرب از دردِ مَحبّت غزلے می پرداخت
کہ حکیمانِ جہاں را مژہ خوں پالا بود
مطرب محبت کے درد سے ایسی غزل گا رہا تھا کہ دنیا کے حکیموں (عقل مندوں) کی پلکیں خون سے آلودہ تھیں۔
قلبِ اندودۂ حافظ برِ او خرج نَشُد
کہ معامل بہمہ عیبِ نہاں بینا بود
حافظ کے دل کا کھوٹا سکہ اُسکے سامنے نہ چلا (چل سکا)، اس لئے کہ معاملہ کرنیوالا تمام پوشیدہ عیبوں کا دیکھنے والا تھا۔
قبولِ خاطرِ معشوق شرطِ دیدار است
بحکمِ شوق تماشا مکن کہ بے ادبی است(عرفی شیرازی)
دوست جس حد تک پسند کرے اسی حد تک نظارہ کرنا چاہیئے، اپنے شوق کے موافق نہ دیکھ کہ یہ بے ادبی ہے۔
خموش حافظ و از جورِ یار نالہ مکُن
ترا کہ گفت کہ بر روئے خوب حیراں باش
(حافظ شیرازی)
حافظ خاموش رہ اور یار کے ظلم سے نالاں نہ ہو، تجھ سے کس نے کہا تھا کہ خوبصورت چہرے پر عاشق ہو جا
بارشوں کے موسم میں
زخم جو بھی لگ جائے
عُمر بھر نہیں سِلتا
وہ جو ایک دیوانہ
آتے جاتے راہی کو
راستوں میں ملتا تھا
اب کہیں نہیں مِلتا
(فرحت عباس شاہ)
چاک ہو جائے جو اک بارہوس کے ہاتھوں
جامہ عشق __ دوبارہ تو نہیں سلتا ہے
آسمان میری زمینوں پر جھکا ہے لیکن
تیرا اور میرا _ ستارہ ہی نہیں ملتا ہے
شاعر : سلیم کوثر