تباہیوں کا کِسی نے اگر سبب پُوچھا
زبانِ حال نے بے ساختہ کہا آنکھیں۔۔۔!
محسنؔ بھوپالی
آنکھیں
مجھ سے ملتے ہیں تو ملتے ہیں چرا کر آنکھیں
پھر وہ کس کے لیے رکھتے ہیں سجا کر آنکھیں
میں انہیں دیکھتا رہتا ہوں جہاں تک دیکھوں
ایک وہ ہیں جو دیکھیں نا اٹھا کر آنکھیں
اس جگہ آج بھی بیٹھا ہوں اکیلا یارو
جس جگہ چھوڑ گئے تھے وہ ملا کر آنکھیں
مجھ سے نظریں وہ اکثر چرا لیتے ہیں فراز
میں نے کاغذ پہ بھی دیکھی ہیں بنا کر آنکھیں
یہ جو ہم موت کے بستر پہ پڑے ہیں کب سے
تُو چلا آئے تو پھر ناچنے گانے لگ جائیں
ہم اگر تیری طرح بات بڑھانے لگ جائیں
پھر یہ محدود روابط بھی ٹھکانے لگ جائیں
اپنی معصوم سی آنکھوں کو بچائے رکھنا
دیکھنا اِن میں کہیں خواب نہ آنے لگ جائیں
ہوتی ہی نہیں ہم سے شناسا تری آنکھیں
ہیں جھیل تو کیوں رکھتی ہیں پیاسا تری آنکھیں
ٹھہرا ہی نہیں کوئی کبھی جن کے مقابل
وہ موج میں آیا ہوا دریا تری آنکھیں
صد جلوہء خوش رنگ لیے اپنی ادا میں
فطرت کا تراشا ہوا ہیرا تری آنکھیں
برہم ہیں تو رکھا ہے مرا ہاتھ بھی دل پر
توڑیں نہ کہیں آس کا رشتہ تری آنکھیں
کرتی ہیں پزیرائی بھی گو نازو ادا سے
دیتی ہیں مگر زخم بھی گہرا تری آنکھیں
مرا دو چشم تو انداخت در بلائے سیاه
وگرنہ من کہ و مستی و عاشقی ز کجا
(عبید زاکانی)
مجھے تو تیری دو آنکھوں نے سیاہ بلا میں مبتلا کر دیا ہے، وگرنہ میں کیا (کہاں) اور مستی اور عاشقی کہاں۔
جھانک لیتی ہیں دل کے اندر تک
جب بھی مِلتی ہیں باہمی آنکھیں
اِک غزل آج اُن پہ کہہ ڈالوں
کہہ رہی ہیں وہ جھیل سی آنکھیں۔
اُس کی آنکھوں کا وہی رنگ ہے جھیلوں جیسا
خاص جرگوں میں___ قبائل کی دلیلوں جیسا
تیری صورت سے عالم میں بہاروں کو ثبات
تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے
اکھیاں ہور کسے نوں کیوں ویکھن
جدو کھوٹ ایمان اچ کوئی نہی....!
تیرے دل دیاں یار خدا جانے
ساڈا ہور جہاں وچ کوئی نہیں
آپ کی آنکھیں اگر شعر سنانے لگ جائیں
ہم جو غزلیں لیے پھرتے ہیں ٹھکانے لگ جائیں
سنا ہے حشر ہیں اس کی غزال سی آنکھیں..
سنا ہے ہرن اسے دشت بھر کے دیکھتے ہیں...
اس کی آنکھیں بتاوں،کیسی ہیں؟
جھیل سیف الملوک جیسی ہیں