AddThis

Welcome, as the name suggests, this blog is all about fantasy, literature, art and storytelling. Feedback/suggestions are welcomed. Enjoy! and follow for regular updates...
Showing posts with label آنکھیں. Show all posts
Showing posts with label آنکھیں. Show all posts

Saturday, 29 September 2018

محسن بھوپالی

تباہیوں کا کِسی نے اگر سبب پُوچھا
زبانِ حال نے بے ساختہ کہا آنکھیں۔۔۔!

محسنؔ بھوپالی

Monday, 30 July 2018

احمد فراز

آنکھیں

مجھ سے ملتے ہیں تو ملتے ہیں چرا کر آنکھیں
پھر وہ کس کے لیے رکھتے ہیں سجا کر آنکھیں

میں انہیں دیکھتا رہتا ہوں جہاں تک دیکھوں
ایک وہ ہیں جو دیکھیں نا اٹھا کر آنکھیں

اس جگہ آج بھی بیٹھا ہوں اکیلا یارو
جس جگہ چھوڑ گئے تھے وہ ملا کر آنکھیں

مجھ سے نظریں وہ اکثر چرا لیتے ہیں فراز
میں نے کاغذ پہ بھی دیکھی ہیں بنا کر آنکھیں

Thursday, 26 July 2018

نامعلوم

یہ جو  ہم  موت  کے بستر  پہ  پڑے  ہیں کب سے
تُو چلا   آئے  تو  پھر  ناچنے  گانے  لگ  جائیں

ہم  اگر  تیری  طرح  بات  بڑھانے  لگ  جائیں
پھر یہ محدود روابط بھی ٹھکانے لگ جائیں

اپنی معصوم سی آنکھوں کو بچائے رکھنا
دیکھنا اِن میں کہیں خواب نہ آنے لگ جائیں

Sunday, 15 July 2018

اکرم جاذب

ہوتی  ہی  نہیں   ہم    سے   شناسا   تری  آنکھیں
ہیں جھیل تو کیوں رکھتی ہیں پیاسا تری آنکھیں

ٹھہرا  ہی   نہیں   کوئی  کبھی  جن   کے   مقابل
وہ  موج   میں   آیا   ہوا    دریا     تری   آنکھیں

صد    جلوہء  خوش  رنگ   لیے   اپنی  ادا   میں
فطرت     کا   تراشا    ہوا    ہیرا    تری   آنکھیں

برہم  ہیں  تو  رکھا   ہے   مرا   ہاتھ  بھی دل پر
توڑیں   نہ   کہیں   آس   کا   رشتہ  تری آنکھیں

کرتی   ہیں    پزیرائی  بھی    گو   نازو  ادا   سے
دیتی  ہیں  مگر   زخم    بھی   گہرا  تری آنکھیں

Friday, 13 July 2018

عبید زاکانی

مرا دو چشم تو انداخت در بلائے سیاه
وگرنہ من کہ و مستی و عاشقی ز کجا

(عبید زاکانی)

مجھے تو تیری دو آنکھوں نے سیاہ بلا میں مبتلا کر دیا ہے، وگرنہ میں کیا (کہاں) اور مستی اور عاشقی کہاں۔

Sunday, 15 April 2018

آنکھیں

جھانک  لیتی  ہیں  دل  کے اندر تک
جب  بھی  مِلتی  ہیں باہمی آنکھیں

اِک   غزل   آج   اُن   پہ   کہہ   ڈالوں
کہہ رہی ہیں وہ   جھیل سی آنکھیں۔

Sunday, 1 April 2018

دو سطری

چاند چہرہ حجاب آنکھیں ہیں

کتنی وہ لاجواب آنکھیں ہیں

Monday, 19 March 2018

آنکھیں

اُس کی آنکھوں کا وہی رنگ ہے جھیلوں جیسا
خاص جرگوں میں___ قبائل کی دلیلوں جیسا

تیری صورت سے عالم میں بہاروں کو ثبات
تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے

اکھیاں ہور کسے نوں کیوں ویکھن 
جدو کھوٹ ایمان اچ کوئی نہی....!
تیرے دل دیاں یار خدا جانے 
ساڈا ہور جہاں وچ کوئی نہیں

آپ کی آنکھیں اگر شعر سنانے لگ جائیں
ہم جو غزلیں لیے پھرتے ہیں ٹھکانے لگ جائیں

 
سنا ہے حشر ہیں اس کی غزال سی آنکھیں..
سنا ہے ہرن اسے دشت بھر کے دیکھتے ہیں...

اس کی آنکھیں بتاوں،کیسی ہیں؟
جھیل سیف الملوک جیسی ہیں