کم تو پہلے بھی نہیں تھا مگر اے بِچھڑے ہُوئے
بڑھ گیا اور تِرے غم کا اثر بارش میں۔۔۔!
فرحتؔ عبّاس شاہ
کم تو پہلے بھی نہیں تھا مگر اے بِچھڑے ہُوئے
بڑھ گیا اور تِرے غم کا اثر بارش میں۔۔۔!
فرحتؔ عبّاس شاہ
بارشوں کے موسم میں
زخم جو بھی لگ جائے
عُمر بھر نہیں سِلتا
وہ جو ایک دیوانہ
آتے جاتے راہی کو
راستوں میں ملتا تھا
اب کہیں نہیں مِلتا
(فرحت عباس شاہ)