AddThis

Welcome, as the name suggests, this blog is all about fantasy, literature, art and storytelling. Feedback/suggestions are welcomed. Enjoy! and follow for regular updates...

Thursday, 19 September 2019

اکبر الہ آبادی

تیار تھے نماز پہ ہم سن کے زکر حور
جلوہ بتوں کا دیکھ کے نیت بدل گئی
اکبر الہ آبادی

Friday, 13 September 2019

شہزاد احمد

فصل گل خاک ہوئی جب تو صدا دی تو نے

اے گل تازہ بہت دیر لگا دی تو نے

کوئی صورت بھی رہائی کی نہیں رہنے دی

ایسی دیوار پہ دیوار بنا دی تو نے

Tuesday, 10 September 2019

فارسی

بے تو بُوئے گُل مرا دودِ کبابِ بُلبُل است
جلوۂ شبنم، نمک پاشیدنِ زخمِ گُل است

تیرے بغیر، میرے لئے پھولوں کی خوشبو ایسے ہے جیسے کے بلبل کے جلنے کی بُو، اور اوس کا گرنا ایسے ہے جیسے پھولوں کے زخموں پر نمک پاشی!

Saturday, 7 September 2019

میثم علی آغا

تمہاری آنکھیں ، سمندر کے پانیوں سے بنی
تمہارے ھونٹ ، بنائے گئے گلابوں سے

”میثم علی آغا“

Thursday, 5 September 2019

دو سطری

‏روک لیتاہوں توکہتی ہےکہ جانےدومجھے "

جانےدیتاہوں توکہتی ہےیہی چاہت تھی ؟

Saturday, 17 August 2019

دوسطری

میرے لئے تو یہ بھی اذیت کی بات تھی

تجھ کو بھی دل کا حال سنانا پڑا مجھے

Friday, 9 August 2019

ساحر لدھیانوی

خون پھر خون ہے

ظلم پھر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے، ٹپکے گا تو جم جائے گا

خاکِ صحرا پہ جمے یا کفِ قاتل پہ جمے
فرقِ انصاف پہ یا پائے سلاسل پہ جمے
تیغِ بیداد پہ، یا لاشہ بسمل پہ جمے
خون پھر خون ہے، ٹپکے گا تو جم جائے گا

لاکھ بیٹھے کوئی چھپ چھپ کے کمیں گاہوں میں
خون خود دیتا ہے جلادوں‌کے مسکن کا سراغ
سازشیں لاکھ اوڑھاتی رہیں ظلمت کا نقاب
لے کے ہر بوند نکلتی ہے ہتھیلی پہ چراغ

تم نے جس خون کو مقتل میں دبانا چاہا
آج وہ کوچہ و بازار میں آنکلا ہے
کہیں شعلہ، کہیں نعرہ، کہیں پتھر بن کر
خون چلتا ہے تو رکتا نہیں سنگینوں‌سے
سر اٹھاتا ہے تو دبتا نہیں آئینوں‌ سے

ظلم کی بات ہی کیا، ظلم کی اوقات ہی کیا
ظلم بس ظلم ہے آغاز سے انجام تلک
خون پھر خون ہے، سو شکل بدل سکتا ہے
ایسی شکلیں کہ مٹاؤ تو مٹائے نہ بنے
ایسے شعلے کہ بجھاؤ تو بجھائے نہ بنے
ایسے نعرے کہ دباؤ تو دبائے نہ بنے

ساحر لدھیانوی​