AddThis

Welcome, as the name suggests, this blog is all about fantasy, literature, art and storytelling. Feedback/suggestions are welcomed. Enjoy! and follow for regular updates...

Thursday, 19 July 2018

وحشت رضا علی کلکتوی

درد کا میرے یقیں آپ کریں یا نہ کریں
وحشتؔ رضا علی کلکتوی
درد کا میرے یقیں آپ کریں یا نہ کریں
عرض اتنی ہے کہ اس راز کا چرچا نہ کریں

لاکھ غافل سہی پر ایسے بھی ہم کور نہیں
کہ چمن دیکھ کے ذکر چمن آرا نہ کریں

عقل و دانش سے تو کچھ کام نہ نکلا اپنا
کب تک آخر دل دیوانہ کا کہنا نہ کریں

وہ نگاہیں عجب انداز سے ہیں عشوہ فروش
غم پنہاں کو ہمارے کہیں رسوا نہ کریں

تیرے آشفتہ سر ایسے بھی نہیں سودائی
کہ دل و دیں کے لئے زلف کا سودا نہ کریں

میں نے بیہودہ توقع کی سزا پائی ہے
کچھ خیال آپ مری حسرت دل کا نہ کریں

میرے ارمانوں کو کاش اتنی سمجھ ہو وحشتؔ
کہ ان آنکھوں سے مروت کا تقاضا نہ کریں

علی زریون

عشق کے ہاتھوں مر کر دیکھو، ایسا انوکھا قاتل ہے
زندہ کر کے رکھ دیتا ہے اتنا سوہنا مارتا ہے
صرف ہمی ہیں جو تجھ پر پورے کے پورے مرتے ہیں
ورنہ کسی کو تیری آنکھیں، کسی کو لہجہ مارتا ہے

۔۔۔۔۔

چلو جھوٹا سہی لیکن یہ جھوٹا
تیرے سچوں سے تو اچھا ہے صاحب
طبیعت میں ذرا گرمی ہے اس کی
مگر وہ آدمی ہیرا ہے صاحب
اسے خط میں فقط اتنا لکھا ہے
تیرے بن جی نہیں لگتا ہے صاحب

۔۔۔۔۔

قربتِ لمس کو گالی نہ بنا جانے دے
پیار میں جسم کو یکسر نہ مٹا جانے دے
تو جو ہر روز نئے حسن پہ مر جاتا ہے
تو بتاۓ گا مجھے عشق ہے کیا ، جانے دے

۔۔۔۔۔

ڈرے ہوؤں نے تمہیں بھی ڈرا دیا ورنہ
خدا تو پیار سکھاتا ہے کچھ نہیں کہتا

نیند

نیند پر اشعار
.....
پروین شاکر
نیند جب خوابوں سے پیاری ہو تو ایسے عہد میں
خواب دیکھے کون اور خوابوں کو دے تعبیر کون
.....
غالب
موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
....
راہی معصوم رضا
اس سفر میں نیند ایسی کھو گئی
ہم نہ سوئے رات تھک کر سو گئی
.....
مومن خاں مومن
تھی وصل میں بھی فکر جدائی تمام شب
وہ آئے تو بھی نیند نہ آئی تمام شب
....
راحت اندوری
یہ ضروری ہے کہ آنکھوں کا بھرم قائم رہے
نیند رکھو یا نہ رکھو خواب معیاری رکھو
.....
اکبر الہ آبادی
آئی ہوگی کسی کو ہجر میں موت
مجھ کو تو نیند بھی نہیں آتی
.....
اقبال اشہر
آج پھر نیند کو آنکھوں سے بچھڑتے دیکھا
آج پھر یاد کوئی چوٹ پرانی آئی
.....
نظام رامپوری
اب آؤ مل کے سو رہیں تکرار ہو چکی
آنکھوں میں نیند بھی ہے بہت رات کم بھی ہے
.....
محشر عنایتی
بڑی طویل ہے محشرؔ کسی کے ہجر کی بات
کوئی غزل ہی سناؤ کہ نیند آ جائے
.....
محسن اسرار
بہت کچھ تم سے کہنا تھا مگر میں کہہ نہ پایا
لو میری ڈائری رکھ لو مجھے نیند آ رہی ہے
....
ظفر اقبال
بھری رہے ابھی آنکھوں میں اس کے نام کی نیند
وہ خواب ہے تو یونہی دیکھنے سے گزرے گا
.....
جون ایلیا
بن تمہارے کبھی نہیں آئی
کیا مری نیند بھی تمہاری ہے
....
الطاف حسین حالی
چور ہے دل میں کچھ نہ کچھ یارو
نیند پھر رات بھر نہ آئی آج
....
امیر خسرو
چوں شمع سوزاں چوں ذرہ حیراں ز مہر آں مہ بگشتم آخر
نہ نیند نیناں نہ انگ چیناں نہ آپ آوے نہ بھیجے پتیاں
....
بخش لائلپوری
ہمارے خواب چوری ہو گئے ہیں
ہمیں راتوں کو نیند آتی نہیں ہے
.....
قتیل شفائی
ہمیں بھی نیند آ جائے گی ہم بھی سو ہی جائیں گے
ابھی کچھ بے قراری ہے ستارو تم تو سو جاؤ
....
ممنونؔ نظام الدین
کل وصل میں بھی نیند نہ آئی تمام شب
ایک ایک بات پر تھی لڑائی تمام شب
....
خواجہ محمد وزیر لکھنوی
کوئے جاناں سے جو اٹھتا ہوں تو سو جاتے ہیں پاؤں
دفعتاً آنکھوں سے پاؤں میں اتر آتی ہے نیند
....
مومن خاں مومن
مومن میں اپنے نالوں کے صدقے کہ کہتے ہیں
اس کو بھی آج نیند نہ آئی تمام شب
.....
شیخ ظہور الدین حاتم
مدت سے خواب میں بھی نہیں نیند کا خیال
حیرت میں ہوں یہ کس کا مجھے انتظار ہے
....
لالا مادھو رام جوہر
نیند آنکھ میں بھری ہے کہاں رات بھر رہے
کس کے نصیب تم نے جگائے کدھر رہے
.....
خاموش غازی پوری
نیند تو درد کے بستر پہ بھی آ سکتی ہے
ان کی آغوش میں سر ہو یہ ضروری تو نہیں

Wednesday, 18 July 2018

دو سطری

ھم نے اک زندگی گزاری ھے....
تم تو آئے ھو اب محبت میں....۔

دو سطری

مَیں نے ہر بار نَئی آنکھ سے دیکھا تُجھ کو...

مُجھ کو ہر بار نَیا عِشق ہُوا ہے تُجھ سے...

Tuesday, 17 July 2018

امجد اسلام امجد

محبت کی طبیعت میں
یہ کیسا بچپنا قدرت نے رکھا ہے
کہ یہ جتنی پرانی، جتنی بھی مضبوط ہو جائے
اسے تائیدِ تازہ کی ضرورت پھر بھی رہتی ہے
یقیں کی آخری حد تک دلوں میں لہلہاتی ہو
نگاہوں سے ٹپکتی ہو، لہو میں جگمگاتی ہو
ہزاروں طرح سے دلکش، حسیں ہالے بناتی ہو
اسے اظہار کے لفظوں کی حاجت پھر بھی رہتی ہے !
محبت مانگتی ہے یوں گواہی اپنے ہونے کی
کہ جیسے طفلِ سادہ شام کو اک بیج بوئے
اور شب میں بارہا اٹھے
زمیں کو کھود کر دیکھے
کہ پودا اب کہاں تک ہے !
محبت کی طبیعیت میں عجب تکرار کی خو ہے
کہ یہ اقرار کے لفظوں کو سننے سے نہیں تھکتی
بچھڑنے کی گھڑی ہو یا کوئی ملنے کی ساعت ہو
اسے بس ایک ہی دھن ہے
"کہو مجھ سے محبت ہے !"
"کہو مجھ سے محبت ہے !"
"تمہیں مجھ سے محبت ہے !"
کچھ ایسی بے سکونی ہے وفا کی سر زمینوں میں
کہ جو اہلِ محبت کو سدا بے چین رکھتی ہے
کہ جیسے پھول میں خوشبو، کہ جیسے ہاتھ میں پارہ،
کہ جیسے شام کا تارہ !
محبت کرنے والوں کی سحر راتوں میں رہتی ہے
گماں کی شاخ پر آشیاں بنتا ہے الفت کا
یہ عین وصل میں بھی ہجر کے خدشوں میں رہتی ہے
محبت کے مسافر زندگی جب کاٹ چکتے ہیں
تھکن کی کرچیاں چنتے، وفا کی اجرکیں پہنے
سمے کی راہگزر کی آخری سرحد پہ رکتے ہیں
تو کوئی ڈوبتی سانسوں کی ڈوری تھام کر
دھیرے سے کہتا ہے
" یہ سچ ہے ناں !
ہماری زندگی اک دوسرے کے نام لکھی تھی
یہ دھندلکا سا جو نگاہوں سے قریب و دور پھیلا ہے
اسی کا نام چاہت ہے !
تمہیں مجھ سے محبت تھی !
تمہیں مجھ سے محبت ہے !"
محبت کی طبیعت میں یہ کیسا بچپنا قدرت نے رکھا ہے !

امیر مینائی

برابر آئینے کے بھی نہ سمجھے قدر وہ دل کی
اسے زیر قدم رکھا اسے پیش نظر رکھا

امیر مینائی