AddThis

Welcome, as the name suggests, this blog is all about fantasy, literature, art and storytelling. Feedback/suggestions are welcomed. Enjoy! and follow for regular updates...
Showing posts with label امجداسلام امجد. Show all posts
Showing posts with label امجداسلام امجد. Show all posts

Monday, 25 March 2019

امجد اسلام امجد

اب  تک  نہ  کُھل  سکا  کہ مرے رُوبَرُو ہے کَون
کِس   سے   مَکالَمَہ   ہے   پسِ  گُفتگُو   ہے  کَون

سایہ   اگر   ہے   وہ  تو  ہے  اُس  کا  بَدن  کہاں
مَرکز  اگر  ہُوں  میں  تو  مرے چار سُو ہے کَون

ہر  شے  کی  ماہِیَّت  پہ  جو  کرتا  ہے  تُو سوال
تُجھ  سے  اگر یہ پوچھ لے کوئی کہ تُو ہے کون

اَشّکوں  میں  جِھلمِلاتا  ہوا  کس  کا  عَکس  ہے
تاروں   کی   رَہگُزر   میں   یہ  ماہ  رو  ہے  کَون

باہر  کبھی  تو  جھانک  کے کھڑکی سے دیکھتے
کس   کو   پکارتا   ہوا   یہ  کو  بہ  کو  ہے  کَون

آنکھوں   میں   رات  آ   گئی   لیکِن  نہیں  کُھلا
میں  کِس  کا  مدّعا ہوں؟ مری جُستُجُو ہے کَون

کِس   کی   نگاہِ   لُطف  نے   موسم   بدل  دئیے
فصلِ  خزاں  کی  راہ  میں  یہ  مُشکبو  ہے کَون

بادَل  کی  اوٹ  سے  کبھی  تاروں  کی  آڑ  سے
چُھپ چُھپ کے دیکھتا ہوا یہ حیلہ جُو ہے کَون

تارے  ہیں  آسماں  میں  جیسے  زمیں  پہ  لوگ
ہر  چند  ایک  سے   ہیں  مگر  ہُو  بَہُو  ہے  کَون

ہونا   تو   چاہیے   کہ   یہ   میرا  ہی  عَکس  ہو
لیکِن   یہ   آئینے   میں   مرے   رُوبَرُو  ہے  کَون

اس   بے    کنار    پھیلی    ہوئی   کائنات   میں
کِس  کو  خبر ہے  کَون ہُوں میں! اور تُو ہے کَون

سارا   فَساد   بڑھتی   ہوئی   خواہِشوں   کا  ہے
دل  سے  بڑا  جہان   میں  امجدؔ  عدُو  ہے  کَون

امجد اسلام امجدؔ

Saturday, 4 August 2018

امجد اسلام امجد

امجد اسلام امجد

یہ رُکے رُکے سے آنسو، یہ دبی دبی سی آہیں
یونہی کب تلک خدایا، غم زندگی نباہیں

کہیں ظلمتوں میں گھِر کر، ہے تلاشِ دست رہبر
کہیں جگمگا اُٹھی ہیں مرے نقشِ پا سے راہیں

ترے خانماں خرابوں کا چمن کوئی نہ صحرا
یہ جہاں بھی بیٹھ جائیں وہیں ان کی بارگاہیں

کبھی جادۂ طلب سے جو پھرا ہوں دل شکستہ
تری آرزو نے ہنس کر وہیں ڈال دی ہیں بانہیں

مرے عہد میں نہیں ہے، یہ نشانِ سر بلندی
یہ رنگے ہوئے عمامے یہ جھکی جھکی کُلاہیں

Tuesday, 17 July 2018

امجد اسلام امجد

محبت کی طبیعت میں
یہ کیسا بچپنا قدرت نے رکھا ہے
کہ یہ جتنی پرانی، جتنی بھی مضبوط ہو جائے
اسے تائیدِ تازہ کی ضرورت پھر بھی رہتی ہے
یقیں کی آخری حد تک دلوں میں لہلہاتی ہو
نگاہوں سے ٹپکتی ہو، لہو میں جگمگاتی ہو
ہزاروں طرح سے دلکش، حسیں ہالے بناتی ہو
اسے اظہار کے لفظوں کی حاجت پھر بھی رہتی ہے !
محبت مانگتی ہے یوں گواہی اپنے ہونے کی
کہ جیسے طفلِ سادہ شام کو اک بیج بوئے
اور شب میں بارہا اٹھے
زمیں کو کھود کر دیکھے
کہ پودا اب کہاں تک ہے !
محبت کی طبیعیت میں عجب تکرار کی خو ہے
کہ یہ اقرار کے لفظوں کو سننے سے نہیں تھکتی
بچھڑنے کی گھڑی ہو یا کوئی ملنے کی ساعت ہو
اسے بس ایک ہی دھن ہے
"کہو مجھ سے محبت ہے !"
"کہو مجھ سے محبت ہے !"
"تمہیں مجھ سے محبت ہے !"
کچھ ایسی بے سکونی ہے وفا کی سر زمینوں میں
کہ جو اہلِ محبت کو سدا بے چین رکھتی ہے
کہ جیسے پھول میں خوشبو، کہ جیسے ہاتھ میں پارہ،
کہ جیسے شام کا تارہ !
محبت کرنے والوں کی سحر راتوں میں رہتی ہے
گماں کی شاخ پر آشیاں بنتا ہے الفت کا
یہ عین وصل میں بھی ہجر کے خدشوں میں رہتی ہے
محبت کے مسافر زندگی جب کاٹ چکتے ہیں
تھکن کی کرچیاں چنتے، وفا کی اجرکیں پہنے
سمے کی راہگزر کی آخری سرحد پہ رکتے ہیں
تو کوئی ڈوبتی سانسوں کی ڈوری تھام کر
دھیرے سے کہتا ہے
" یہ سچ ہے ناں !
ہماری زندگی اک دوسرے کے نام لکھی تھی
یہ دھندلکا سا جو نگاہوں سے قریب و دور پھیلا ہے
اسی کا نام چاہت ہے !
تمہیں مجھ سے محبت تھی !
تمہیں مجھ سے محبت ہے !"
محبت کی طبیعت میں یہ کیسا بچپنا قدرت نے رکھا ہے !

Friday, 1 December 2017

امجد اسلام امجد

در کائنات جو وا کرے اسی آگہی کی تلاش ہے
مجھے روشنی کی تلاش تھی مجھے روشنی کی تلاش ہے

غم زندگی کے فشار میں تری آرزو کے غبار میں
اسی بے حسی کے حصار میں مجھے زندگی کی تلاش ہے

یہ جو سرسری سی نشاط ہے یہ تو چند لمحوں کی بات ہے
مری روح تک جو اتر سکے مجھے اس خوشی کی تلاش ہے

یہ جو آگ سی ہے دبی دبی نہیں دوستو مرے کام کی
وہ جو ایک آن میں پھونک دے اسی شعلگی کی تلاش ہے

یہ جو ساختہ سے ہیں قہقہے مرے دل کو لگتے ہیں بوجھ سے
وہ جو اپنے آپ میں مست ہو مجھے اس ہنسی کی تلاش ہے

یہ جو میل جول کی بات ہے یہ جو مجلسی سی حیات ہے
مجھے اس سے کوئی غرض نہیں مجھے دوستی کی تلاش ہے

Monday, 9 October 2017

امجد اسلام امجد

ﺗﺮﮎِ ﺍُﻟﻔﺖ ﮐﺎ ﺑﮩﺎﻧﮧ ﭼﺎﮨﮯ
ﻭﮦ ﻣُﺠﮭﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﮧ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﮯ

ﺁﺱ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﺏ ﺧﯿﺎﻟﯽ ﺩﯾﮑﮭﻮ
ﺁﮒ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﮯ

ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺗﻐﺎﻓﻞ ﮨﯽ ﺳﮩﯽ
ﺁﺭﺯﻭ ﮐﻮﺋﯽ ﭨﮭﮑﺎﻧﮧ ﭼﺎﮨﮯ

ﻭﻗﺖ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﺑﻨﺎ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺍﮔﺮ ﻟَﻮﭦ ﺑﮭﯽ ﺁﻧﺎ ﭼﺎﮨﮯ

ﮐﻮﺋﯽ ﺁﮨﭧ ﺗﮭﯽ ﻧﮧ ﺳﺎﯾﮧ ﺗﮭﺎ
ﺩﻝ ﺗﻮ ﺭُﮐﻨﮯ ﮐﺎ ﺑﮩﺎﻧﮧ ﭼﺎﮨﮯ

ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﺭﺳﺘﮯ ﮐﯽ ﺳﺮﺍﺋﮯ ﮨُﻮﮞ ﺟِﺴﮯ
ﮨﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﮯ

ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﺩﻝ ﮐﯽ ﺍﺫّﯾﺖ ﻃﻠﺒﯽ
ﭘﮭﺮ ﺍُﺳﯽ ﺷﮩﺮ ﮐﻮ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﮯ

ﺍﻣﺠﺪ ﺍﺳﻼﻡ ﺍﻣﺠﺪؔ