AddThis

Welcome, as the name suggests, this blog is all about fantasy, literature, art and storytelling. Feedback/suggestions are welcomed. Enjoy! and follow for regular updates...

Monday, 30 October 2017

عرفان ستار

گدائے حرف ہوں مجھے کسی پہ برتری نہیں
یہ منتہائے علم ہے جناب، عاجزی نہیں

جسے سمجھ رہے ہو آگہی، فسونِ جہل ہے
جسے چراغ کہہ رہے ہو اس میں روشنی نہیں

تمہیں خبر کہاں کہ لطف کیسا درگزر میں ہے
مجھے کسی سے کچھ گلہ نہیں ہے، واقعی نہیں

کبھی تو اپنے آپ میں گزار چند ساعتیں
یقین کر کہ اپنے وصل سی کوئی خوشی نہیں

جو میں کشادہ ذہن ہوں تو فضلِ ربِؔ علم ہے
خدا کا شکر ہے کہ میری فکر کھوکھلی نہیں

اگر میں بددماغ ہوں تو مجھ سے مت ملا کرو
منافقوں سے یوں بھی میری آج تک بنی نہیں

بچھڑتے وقت اُن لبوں پہ ان گنت سوال تھے
میں صرف اتنا کہہ سکا، نہیں نہیں، ابھی نہیں

اسی لیے کہا تھا تم سے ہر کسی کی مت سنو
ہمارے بیچ میں وہ بات آگئی جو تھی نہیں

میں خواب میں بھی جانتا تھا، خواب ہے، اِسی لیے
وہ جارہا تھا اور میری آنکھ تک کھُلی نہیں

نہ شوق آوری کا دن، نہ حال پروری کی شب
یہ  زندگی تو  ہے مگر. مرے  مزاج  کی نہیں

ترا  سلوک  مجھ کو  یہ بتا  رہا  ہے  آج  کل
جو مجھ میں ایک بات تھی، وہ بات اب رہی نہیں

کوئی تو  شعر ہو  وفور و کیفیت  میں تربتر
سخن کی پیاس سے بڑی کوئی بھی تشنگی نہیں

تو کیا بچھڑتے وقت کچھ گلے بھی تم سے تھے مجھے
تمہی کو یاد ہوں تو ہوں، مجھے تو یاد بھی نہیں

قبائے  حُسن سے  اُدھر بلا  کا اک  طلسم تھا
نجانے کتنی دیر میں نے سانس تک تو لی نہیں

تمام زاویوں  سے  بات کر چکا،  تو پھر کھُلا
یہ  عشق  وارداتِ قلب  ہے  جو  گفتنی نہیں

کچھ اس قدار گداز ہوچکا ہے دل، کہ اس میں اب
نگاہِ  التفات  جھیلنے. کی  تاب  ہی  نہیں

کسی کا ذکر کیا مجھے تو خود سے بھی گریز ہے
میں کیا کروں کہ مجھ میں خوئے خودسپردگی نہیں

ہجومِ بد  کلام  جا  رہا  ہے  دوسری  طرف
میں اِس طرف کو چھوڑ کر اُدھر چلوں، کبھی نہیں

مری  غزل پہ  داد دے رہے ہو،  تعزیت کرو
مرے جگر کا خون ہے میاں، یہ شاعری نہیں

مرا سخی کبھی بھی مجھ کو پُرسوال کیوں کرے
فقیرِ راہِ عشق ہوں، مجھے کوئی کمی نہیں

سنو  بغور یہ غزل، کہ  پھر بہت  سکوت ہے
اگرچہ  لگ رہا ہے  یہ غزل  بھی آخری نہیں

(عرفان ستار)

Thursday, 26 October 2017

داغ دہلوی

آئینہ تصویر کا تیرے نہ لے کر رکھ دیا؟
بوسے لینے کے لیئے کعبے میں پتھر رکھ دیا

ہم نے اُن کے سامنے اوّل تو خنجر رکھ دیا
پھر کلیجہ رکھ دیا، دل رکھ دیا، سر رکھ دیا

سُن لیا ہے پاس حوروں کے پُہنچتے ہیں شہید 
اس لیئے لاشے پہ میرے اُس نے پتھر رکھ دیا

کل چھڑا لیں گے یہ، زاہد، آج تو ساقی کے ہاتھ
رہن اک چلّو پہ ہم نے حوض کوثر رکھ دیا

ذبح کرتے ہی مجھے، قاتل نے دھوئے اپنے ہاتھ
اور خون آلودہ خنجر غیر کے گھر رکھ دیا

زندگی میں پاس سے دم بھر نہ ہوتے تھےجدا
قبر میں تنہا مجھے یاروں نے کیونکر رکھ دیا

زلف خالی ہاتھ خالی کس جگہ ڈھونڈھیں اُسے
تم نے دل لے کر کہاں اے بندہ پرور رکھ دیا؟

داغ کی شامت جو آئی اضطرابِ شوق میں
حالِ دل کمبخت نے سب اُن کے منہ پر رکھ دیا​

نعت

تنم فرسودہ جاں پارہ ، ز ہجراں ، یا رسول اللہ ﷺ
دِلم پژمردہ آوارہ ، زِ عصیاں ، یا رسول اللہ ﷺ
یا رسول اللہ ﷺ آپ کی جدائی میں میرا جسم بے کار اور جاں پارہ پارہ ہو گئی ہے
گناہوں کی وجہ سے دل نیم مردہ اور آورہ ہو گیا ہے
چوں سوئے من گذر آری ، منِ مسکیں زِ ناداری
فدائے نقشِ نعلینت ، کنم جاں ، یا رسول اللہ ﷺ
یا رسول اللہ ﷺ اگر کبھی آپ میرے جانب قدم رنجہ فرمائیں تو میں غریب و ناتواں
آپ ﷺ کی جوتیوں کے نشان پر جان قربان کر دوں
زِ کردہ خویش حیرانم ، سیہ شُد روزِ عصیانم
پشیمانم، پشیمانم ، پشیماں ، یا رسول اللہ ﷺ
میں اپنے کیے پر حیران ہوں اور گناہوں سے سیاہ ہو چکا ہوں
پشیمانی اور شرمند گی سے پانی پانی ہو رہا ہوں ،یا رسول اللہ ﷺ
چوں بازوئے شفاعت را ، کُشائی بر گنہ گاراں
مکُن محروم جامی را ، درا آں ، یا رسول اللہ ﷺ
روز محشر جب آپ ﷺ شفاعت کا بازو گناہ گاروں کے لیے کھولیں گے
یا رسول اللہ ﷺ اُس وقت جامی کو محروم نہ رکھیے گا
مولانا عبدالرحمن جامی

Wednesday, 25 October 2017

قتیل شفائی

ﺟﺐ ﺗﺼﻮﺭ ﻣﺮﺍ ﭼُﭙﮑﮯ ﺳﮯ ﺗﺠﮭﮯ ﭼﮭُﻮ ﺁﺋﮯ
ﺍﭘﻨﯽ ﮨﺮ ﺳﺎﻧﺲ ﺳﮯ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺗِﺮﯼ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺁﺋﮯ

ﻣﺸﻐﻠﮧ ﺍﺏ ﮨﮯ ﻣﺮﺍ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﻮ ﺗﮑﺘﮯ ﺭﮨﻨﺎ
ﺭﺍﺕ ﺑﮭﺮ ﭼﯿﻦ ﻧﮧ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﮐﺴﯽ ﭘﮩﻠﻮ ﺁﺋﮯ

ﭘﯿﺎﺭ ﻧﮯ ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﻕ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﮌﺍ ﺑﺎﻗﯽ
ﺟﮭﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﻋﮑﺲ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﮨﻮ، ﻧﻈﺮ ﺗﻮ ﺁﺋﮯ

ﺟﺐ ﮐﺒﮭﯽ ﮔﺮﺩﺵِ ﺩﻭﺭﺍﮞ ﻧﮯ ﺳﺘﺎﯾﺎ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ
ﻣﺮﯼ ﺟﺎﻧﺐ ﺗﯿﺮﮮ ﭘﮭﯿﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﺎﺯﻭ ﺁﺋﮯ

ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﺳﻮﭼﺎ ﮐﮧ ﺷﺐِ ﮨﺠﺮ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﯽ ﺭﻭﺷﻦ
ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﺎﻧﮯ ﺗِﺮﯼ ﯾﺎﺩ ﮐﮯ ﺟﮕﻨﻮ ﺁﺋﮯ

ﮐﺘﻨﺎ ﺣﺴﺎﺱ ﻣﺮﯼ ﺁﺱ ﮐﺎ ﺳﻨّﺎﭨﺎ ﮨﮯ
ﮐﮧ ﺧﻤﻮﺷﯽ ﺑﮭﯽ ﺟﮩﺎﮞ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﮐﮯ ﮔﮭﻨﮕﺮﻭ ﺁﺋﮯ

ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﮐﻮ ﺳﺮِﺷﺎﻡ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺎﯾﮧ ﺳﺎ
ﺗﯿﺮﮮ ﺁﻧﮕﻦ ﺳﮯ ﭼﻠﮯ ﺍﻭﺭ ﻟﺐِ ﺟﻮ ﺁﺋﮯ

ﺍُﺱ ﮐﮯ ﻟﮩﺠﮯ ﮐﺎ ﺍﺛﺮ ﺗﻮ ﮨﮯ ﺑﮍﯼ ﺑﺎﺕ ﻗﺘﯿﻞؔ
ﻭﮦ ﺗﻮ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﺟﺎﺩﻭ ﺁﺋﮯ

قتیلؔ شفائی

پنجابی شاعری

‏پہلے عِشقا عِشقا کردا سی، ہُن کِن مِن کِن مِن روندا اے
کوئی وکھرا عاشق نئیں جمدا اِنج کرئیے تے اِنج ہوندا اے

Tuesday, 24 October 2017

شکیب جلالی

میں شاخ سے اڑا تھا ستاروں کی آس میں
مرجھا کے آ گرا ہوں مگر سرد گھاس میں

سوچو تو سلوٹوں سے بھری ہے تمام روح
دیکھو تو اک شکن بھی نہیں ہے لباس میں

صحرا کی بود و باش ہے اچھی نہ کیوں لگے
سوکھی ہوئی گلاب کی ٹہنی گلاس میں

چمکے نہیں نظر میں ابھی نقش دور کے
مصروف ہوں ابھی عمل انعکاس میں

دھوکے سے اس حسیں کو اگر چوم بھی لیا
پاؤ گے دل کا زہر لبوں کی مٹھاس میں

تارہ کوئی ردائے شب ابر میں نہ تھا
بیٹھا تھا میں اداس بیابان یاس میں

جوئے روان دشت ابھی سوکھنا نہیں
ساون ہے دور اور وہی شدت ہے پیاس میں

رہتا تھا سامنے ترا چہرہ کھلا ہوا
پڑھتا تھا میں کتاب یہی ہر کلاس میں

کانٹوں کی باڑ پھاند گیا تھا مگر شکیبؔ
رستہ نہ مل سکا مجھے پھولوں کی باس میں​

قمر جلالوی

عزیز گھر سے جو میّت میری اُٹھا کے چلے
اِشارے غیر سے اُس دُشمنِ وفا کے چلے
دِکھا کے میرے جنازے کو مُسکُرا کے کہا
بُتوں نے بات نہ پُوچھی تو اب خُدا کے چلے۔۔۔!