AddThis

Welcome, as the name suggests, this blog is all about fantasy, literature, art and storytelling. Feedback/suggestions are welcomed. Enjoy! and follow for regular updates...
Showing posts with label عرفان ستار. Show all posts
Showing posts with label عرفان ستار. Show all posts

Saturday, 9 June 2018

عرفان ستار

ملے گا کیا تجھے  اے  دل  یہ  تجربہ  کر  کے
ابھی تو  زخم  بھرے  ہیں  خدا  خدا  کر  کے

ہمیں بھی صبح جگاتی تھی آ کے  ایک  مہک
چمن میں کوئی ہمارا  بھی  تھا  صبا  کر  کے

سخن میں  تیرے  تغافل  سے  آ  گیا  یہ  ہنر
ذرا سا  غم بھی  سناتے  ہیں  سانحہ  کر  کے

ابھی  ہوئی  ہے  پلک  سے  پلک  ذرا  مانوس
ابھی نہ جا مجھے اس خواب سے رہا کر  کے

اُداس تھے سو  ترے در  پہ آ  کے  بیٹھ  گئے
فقیر ہیں سو چلے  جائیں  گے  صدا  کر  کے

عرفانؔ ستار

Monday, 30 October 2017

عرفان ستار

گدائے حرف ہوں مجھے کسی پہ برتری نہیں
یہ منتہائے علم ہے جناب، عاجزی نہیں

جسے سمجھ رہے ہو آگہی، فسونِ جہل ہے
جسے چراغ کہہ رہے ہو اس میں روشنی نہیں

تمہیں خبر کہاں کہ لطف کیسا درگزر میں ہے
مجھے کسی سے کچھ گلہ نہیں ہے، واقعی نہیں

کبھی تو اپنے آپ میں گزار چند ساعتیں
یقین کر کہ اپنے وصل سی کوئی خوشی نہیں

جو میں کشادہ ذہن ہوں تو فضلِ ربِؔ علم ہے
خدا کا شکر ہے کہ میری فکر کھوکھلی نہیں

اگر میں بددماغ ہوں تو مجھ سے مت ملا کرو
منافقوں سے یوں بھی میری آج تک بنی نہیں

بچھڑتے وقت اُن لبوں پہ ان گنت سوال تھے
میں صرف اتنا کہہ سکا، نہیں نہیں، ابھی نہیں

اسی لیے کہا تھا تم سے ہر کسی کی مت سنو
ہمارے بیچ میں وہ بات آگئی جو تھی نہیں

میں خواب میں بھی جانتا تھا، خواب ہے، اِسی لیے
وہ جارہا تھا اور میری آنکھ تک کھُلی نہیں

نہ شوق آوری کا دن، نہ حال پروری کی شب
یہ  زندگی تو  ہے مگر. مرے  مزاج  کی نہیں

ترا  سلوک  مجھ کو  یہ بتا  رہا  ہے  آج  کل
جو مجھ میں ایک بات تھی، وہ بات اب رہی نہیں

کوئی تو  شعر ہو  وفور و کیفیت  میں تربتر
سخن کی پیاس سے بڑی کوئی بھی تشنگی نہیں

تو کیا بچھڑتے وقت کچھ گلے بھی تم سے تھے مجھے
تمہی کو یاد ہوں تو ہوں، مجھے تو یاد بھی نہیں

قبائے  حُسن سے  اُدھر بلا  کا اک  طلسم تھا
نجانے کتنی دیر میں نے سانس تک تو لی نہیں

تمام زاویوں  سے  بات کر چکا،  تو پھر کھُلا
یہ  عشق  وارداتِ قلب  ہے  جو  گفتنی نہیں

کچھ اس قدار گداز ہوچکا ہے دل، کہ اس میں اب
نگاہِ  التفات  جھیلنے. کی  تاب  ہی  نہیں

کسی کا ذکر کیا مجھے تو خود سے بھی گریز ہے
میں کیا کروں کہ مجھ میں خوئے خودسپردگی نہیں

ہجومِ بد  کلام  جا  رہا  ہے  دوسری  طرف
میں اِس طرف کو چھوڑ کر اُدھر چلوں، کبھی نہیں

مری  غزل پہ  داد دے رہے ہو،  تعزیت کرو
مرے جگر کا خون ہے میاں، یہ شاعری نہیں

مرا سخی کبھی بھی مجھ کو پُرسوال کیوں کرے
فقیرِ راہِ عشق ہوں، مجھے کوئی کمی نہیں

سنو  بغور یہ غزل، کہ  پھر بہت  سکوت ہے
اگرچہ  لگ رہا ہے  یہ غزل  بھی آخری نہیں

(عرفان ستار)

Tuesday, 17 October 2017

عرفان ستار

میں گفتگو کا نہیں سوچنے کا عادی ہوں
سو میں نے عشق بھی تجھ ایسے کم سخن سے کیا

Wednesday, 11 October 2017

عرفان ستار

تیرے لہجے سے تیرا جہلِ دروں بولتا ہے
بات کرنا نہیں آتی  ہے تو کیوں  بولتا ہے

عرفان ستار