AddThis

Welcome, as the name suggests, this blog is all about fantasy, literature, art and storytelling. Feedback/suggestions are welcomed. Enjoy! and follow for regular updates...
Showing posts with label قمر جلالوی. Show all posts
Showing posts with label قمر جلالوی. Show all posts

Monday, 18 June 2018

قمر جلالوی

کسی کا نام لو، بے نام افسانے بہت سے ہیں
نہ جانے کس کو تم کہتے ہو دیوانے بہت سے ہیں

جفاؤں کے گِلے تم سے خدا جانے بہت سے ہیں
تری محفل میں ورنہ جانے پہچانے بہت سے ہیں

دھری رہ جائے گی پابندیٔ زنداں، جو اب چھیڑا
یہ دربانوں کو سمجھادو کہ دیوانے بہت سے ہیں

بس اب سوجاؤ نیند آنکھوں میں ہے، کل پھر سنائیں گے
ذرا سی رہ گئی ہے رات، افسانے بہت سے ہیں

تمہیں کس نے بلایا، مے کشوں سے یہ نہ کہہ ساقی
طبیعت مل گئی ہے ورنہ مے خانے بہت سے ہیں

بڑی قربانیوں کے بعد رہنا باغ میں ہوگا
ابھی تو آشیاں بجلی سے جلوانے بہت سے ہیں

لکھی ہے خاک اڑانی ہی گر اپنے مقدر میں
ترے کوچے پہ کیا موقوف، دیوانے بہت سے ہیں

نہ رو اے شمع! موجودہ پتنگوں کی مصیبت پر
ابھی محفل سے باہر تیرے پروانے بہت سے ہیں

مرے کہنے سے ہوگی ترکِ رسم و راہ غیروں سے
بجا ہے، آپ نے کہنے میرے مانے بہت سے ہیں

قمر! اللہ ساتھ ایمان کے منزل پہ پہنچادے
حرم کی راہ میں سنتے ہیں بت خانے بہت سے ہیں

(قمر جلالوی)

Thursday, 31 May 2018

قمر جلالوی

مرا خاموش رہ کر بھی انہیں  سب  کچھ  سنا   دینا
زباں  سے  کچھ  نہ  کہنا   دیکھ  کر   آنسو  بہا   دینا

نشیمن ہو  نہ  ہو   یہ   تو   فلک   کا   مشغلہ    ٹھہرا
کہ  دو  تنکے  جہاں  پر   دیکھنا    بجلی    گرا    دینا

میں اس حالت سے پہنچا حشر والے  خود  پکار  اٹھے
کوئی    فریاد    والا    آ     رہا      ہے     راستہ     دینا

اجازت  ہو  تو   کہہ  دوں   قصۂ   الفت   سرِ   محفل
مجھے  کچھ تو  فسانہ  یاد  ہے  کچھ  تم  سنا  دینا

میں  مجرم  ہوں  مجھے  اقرار   ہے  جرمِ  محبت  کا
مگر  پہلے  تو  خط  پر  غور  کر   لو  پھر  سزا   دینا

ہٹا  کر  رخ سے  گیسو  صبح  کر  دینا  تو  ممکن  ہے
مگر   سرکار   کے  بس  میں  نہیں  تارے  چھپا  دینا

یہ   تہذیبِ   چمن   بدلی   ہے    بیرونی   ہواؤں   نے
گریباں  چاک    پھولوں   پر    کلی  کا   مسکرا   دینا

قمرؔ وہ سب سے  چھپ کر آ  رہے ہیں  فاتحہ  پڑھنے
کہوں کس سے کہ میری  شمعِ تربت  کو  بجھا  دینا

قمرؔ جلالوی

Tuesday, 24 October 2017

قمر جلالوی

عزیز گھر سے جو میّت میری اُٹھا کے چلے
اِشارے غیر سے اُس دُشمنِ وفا کے چلے
دِکھا کے میرے جنازے کو مُسکُرا کے کہا
بُتوں نے بات نہ پُوچھی تو اب خُدا کے چلے۔۔۔!

Monday, 23 October 2017

قمر جلالوی

حسن کب عشق کا ممنون وفا ہوتا ہے
قمر جلالوی
حسن کب عشق کا ممنون وفا ہوتا ہے
لاکھ پروانہ مرے شمع پہ کیا ہوتا ہے
شغل صیاد یہی صبح و مسا ہوتا ہے
قید ہوتا ہے کوئی کوئی رہا ہوتا ہے
جب پتا چلتا ہے خوشبو کی وفاداری کا
پھول جس وقت گلستاں سے جدا ہوتا ہے
ضبط کرتا ہوں تو گھٹتا ہے قفس میں مرا دم
آہ کرتا ہوں تو صیاد خفا ہوتا ہے
خون ہوتا ہے سحر تک مرے ارمانوں کا
شام وعدہ جو وہ پابند حنا ہوتا ہے
چاندنی دیکھ کے یاد آتے ہیں کیا کیا وہ مجھے
چاند جب شب کو قمرؔ جلوہ نما ہوتا ہے