AddThis

Welcome, as the name suggests, this blog is all about fantasy, literature, art and storytelling. Feedback/suggestions are welcomed. Enjoy! and follow for regular updates...

Tuesday, 16 April 2019

احمد فراز

مزاج ہم سے زیادہ جدا نہ تھا اس کا
جب اپنے طور یہی تھے تو کیا گلہ اس کا

وہ اپنے زعم میں تھا بے خبر رہا مجھ سے
اسے گماں بھی نہیں میں نہیں رہا اس کا

وہ برق رو تھا مگر وہ گیا کہاں جانے
اب انتظار کریں گے شکستہ پا اس کا

چلو یہ سیل بلا خیز ہی بنے اپنا
سفینہ اس کا خدا اس کا ناخدا اس کا

یہ اہل درد بھی کس کی دہائی دیتے ہیں
وہ چپ بھی ہو تو زمانہ ہے ہم نوا اس کا

ہمیں نے ترک تعلق میں پہل کی کہ فرازؔ
وہ چاہتا تھا مگر حوصلہ نہ تھا اس کا

Wednesday, 3 April 2019

آزاد نظم

کئی دنوں سے
مجھے وہ میسج میں لکھ رہی تھی
جنابِ عالی
حضورِ والا
بس اِک منٹ مجھ سے بات کر لیں
میں اِک منٹ سے اگر تجاوز کروں
تو بے شک نہ کال سننا
میں زیرِ لب مُسکرا کے لکھتا
بہت بزی ہوں
ابھی نئی نظم ہو رہی ہے
وہ اگلے میسج میں پھر یہ لکھتی
سسکتی روتی بلکتی نظموں کے عمدہ شاعر
تم اپنی نظمیں تراشو لیکن
کبھی تو میری طرف بھی دیکھو
کبھی تو مجھ سے بھی بات کر لو
بس اِک منٹ میری بات سُن لو
میں ہنس کے لکھتا
فضول لڑکی
بہت بزی ہوں
بس اِک منٹ ہی تو ہے نہیں ناں
وہ کئی دنوں تک خموش رہتی
پھر ایک دن میں نے اُس کی حالت پہ رحم کھا کر
جواب لکھا
بس اِک منٹ ہے
اور اِک منٹ سے زیادہ بالکل نہیں سنوں گا
تو اس نے اوکے لکھا اور اِک دم سے کال کر دی
میں کال پِک کر کے چُپ کھڑا تھا
وہ گہرا لمبا سا سانس لے کر
اُداس لہجے میں بولی سر جی
میں جانتی ہوں کہ اِک منٹ ہے
اور اِک منٹ میں
میں اپنے اندر کی ساری باتیں کسی بھی صورت نہ کہہ سکوں گی
سلگتی ہجرت زدہ رُتوں کو اُداس نظموں میں لکھنے والے
عظیم شاعر
خُدا کی دھرتی پہ رہنے والے
اُداس لوگوں کا دُکھ بھی لکھنا
کبھی محبت میں جلتے لوگوں کا دُکھ سمجھنا
کبھی کسی نظم میں بتانا جنہیں تمہاری رفاقتیں ہی کبھی میسر نہیں ہوئی ہیں
جنہیں تمہاری محبتیں ہی کھبی میسر نہیں ہوئی ہیں
کبھی جو محرومیوں کے موسم بہت ستائیں تو کیا کریں وہ
کبھی جو تنہائیوں کی شامیں بہت رُلائیں تو کیا کریں وہ
ابھی تو آدھا منٹ پڑا تھا
مگر وہ لائن سے ہٹ چکی تھی
وہ اِک منٹ کی جو کال تھی ناں
وہ تیس سیکنڈ میں کٹ چکی تھی
میں کتنے برسوں سے اگلا آدھا منٹ گزرنے کا منتظر ہوں
وہ نرم لیکن اُداس لہجے میں بات کرتی
اُداس لڑکی مِری سماعت کے
اَدھ کھلے دَر سے یونہی اب تک لگی ہوئی  ہے
ہٹی نہیں ہے
بہت سے سالوں سے چل رہی ہے
وہ کال اب تک کٹی نہیں ہے

Tuesday, 2 April 2019

دوسطری

شعر کہنے میں اِک خرابی ہے
لوگ آہوں پہ واہ کرتے ہیں

Saturday, 30 March 2019

دوسطری

عالم میں اب تلک بھی مذکور ہے ہمارا
افسانہ محبت مشہور ہے ہمارا

Monday, 25 March 2019

امجد اسلام امجد

اب  تک  نہ  کُھل  سکا  کہ مرے رُوبَرُو ہے کَون
کِس   سے   مَکالَمَہ   ہے   پسِ  گُفتگُو   ہے  کَون

سایہ   اگر   ہے   وہ  تو  ہے  اُس  کا  بَدن  کہاں
مَرکز  اگر  ہُوں  میں  تو  مرے چار سُو ہے کَون

ہر  شے  کی  ماہِیَّت  پہ  جو  کرتا  ہے  تُو سوال
تُجھ  سے  اگر یہ پوچھ لے کوئی کہ تُو ہے کون

اَشّکوں  میں  جِھلمِلاتا  ہوا  کس  کا  عَکس  ہے
تاروں   کی   رَہگُزر   میں   یہ  ماہ  رو  ہے  کَون

باہر  کبھی  تو  جھانک  کے کھڑکی سے دیکھتے
کس   کو   پکارتا   ہوا   یہ  کو  بہ  کو  ہے  کَون

آنکھوں   میں   رات  آ   گئی   لیکِن  نہیں  کُھلا
میں  کِس  کا  مدّعا ہوں؟ مری جُستُجُو ہے کَون

کِس   کی   نگاہِ   لُطف  نے   موسم   بدل  دئیے
فصلِ  خزاں  کی  راہ  میں  یہ  مُشکبو  ہے کَون

بادَل  کی  اوٹ  سے  کبھی  تاروں  کی  آڑ  سے
چُھپ چُھپ کے دیکھتا ہوا یہ حیلہ جُو ہے کَون

تارے  ہیں  آسماں  میں  جیسے  زمیں  پہ  لوگ
ہر  چند  ایک  سے   ہیں  مگر  ہُو  بَہُو  ہے  کَون

ہونا   تو   چاہیے   کہ   یہ   میرا  ہی  عَکس  ہو
لیکِن   یہ   آئینے   میں   مرے   رُوبَرُو  ہے  کَون

اس   بے    کنار    پھیلی    ہوئی   کائنات   میں
کِس  کو  خبر ہے  کَون ہُوں میں! اور تُو ہے کَون

سارا   فَساد   بڑھتی   ہوئی   خواہِشوں   کا  ہے
دل  سے  بڑا  جہان   میں  امجدؔ  عدُو  ہے  کَون

امجد اسلام امجدؔ

Wednesday, 13 March 2019

نامعلوم

‏ہم کسی کام کے نہیں ورنہ
وہ کسی کام سے  ہی آ جاتا

Tuesday, 12 March 2019

عابی مکھنوی

پتھر سارے زنداں کی دیوار میں چُن کر حاکم نے !
پاگل کُتے چھوڑ رکھے ہیں ہم سب کی رکھوالی کو
۔۔۔۔
عابی مکھنوی