مزہ برسات کا چاہو تو اِن آنکھوں میں آبیٹھو
سپیدی ہے ، سیاہی ہے ، شفق ہے ، ابرِ باراں ہے
ہم سا بھی ہوگا جہاں میں کوئی ناداں جاناں
بے رُخی کو بھی جو سمجھے ترا احساں جاناں
جب بھی کرتی ہے مرے دل کو پریشاں دُنیا
یاد آتی ہے تری زُلفِ پریشاں جاناں
میں تری پہلی نظر کو نہیں بھولا اب تک
آج بھی دل میں ہے پیوست وہ پیکاں جاناں
ہمسُخَن ہو کبھی آئنیے سے باہر آ کر
اے مری روح ! مرے عکسِ گریزاں جاناں
دشتِ گلرنگ ہے کس آبلہ پا کے خوں سے
کر گیا کون بیاباں کو گلستاں جاناں
مجھ سے باندھے تھے بنا کر جو ستاروں کو گواہ
کر دئیے تُو نے فراموش وہ پیماں جاناں
کبھی آتے ہوئے دیکھوں تجھے اپنے گھر میں
کاش پورا ہو مرے دل کا یہ ارماں جاناں
اک مسافر کو ترے شہر میں موت آئی ہے
شہر سے دور نہیں گورِ غریباں جاناں
یہ ترا حُسن ، یہ کافر سی ادائیں تیری
کون رہ سکتا ہے ایسے میں مسلماں جاناں
کیوں تجھے ٹوٹ کے چاہے نہ خُدائی ساری
کون ہے تیرے سوا یوسفِ دوراں جاناں
نغمہ و شعر مرے ذوق کا حصّہ تو نہ تھے
تیری آنکھوں نے بنایا ہے غزلخواں جاناں
جاں بہ لب، خاک بسر،آہ بہ دل خانہ بدوش
مجھ سا بھی کوئی نہ ہو بے سرو ساماں جاناں
یہ تو پوچھ اس سے کہ جس پر یہ بلا گُزری ہے
کیا خبر تجھ کو کہ کیا ہے شبِ ہجراں جاناں
وہ تو اک نام تمہارا تھا کہ آڑے آیا
ورنہ دھر لیتی مجھے گردشِ دوراں جاناں
یہ وہ نسبت ہے جو ٹوٹی ہے نہ ٹوٹے گی کبھی
میں ترا خاکِ نشیں تو میرا سلطاں جاناں
کیا تماشہ ہو کہ خاموش کھڑی ہو دنیا
میں چلوں حشر میں کہتے ہوا جاناں جاناں
در پہ حاضر ہے ترے آج نصیرِؔ عاصی
تیرا مجرم، ترا شرمندہِ احساں جاناں
ھر لحظه به شكل آں بت عيار بر آمد -- دل برد و نہاں شد
هر دم به لباس دگر آن يار بر آمد -- گه پير و جوان شدہر لحظہ وہ بتِ عیار ایک نئی ہی شکل میں ظاہر ہوتا ہے --- دل چھینتا ہے اور غائب ہو جاتا ہے۔
ہر دم وہ یار دوسروں کے لباس میں ظاہر ہوتا ہے -
- کبھی بوڑھے کے روپ میں اور کبھی جوان کے۔خود کوزہ و خود کوزہ گر و خود گلِ کوزہ --- خود رندِ سبو کش
خود بر سرِ آں کوزہ خریدار برآمد --- بشکست رواں شدوہ خود ہی کوزہ ہے، خود ہی کوزہ بنانے والا اور خود ہی کوزہ کی مٹی -- اور خود ہی کوزے سے پینے والا۔
اور خود ہی اس کوزے کے خریدار کے طور پر ظاہر ہوتا ہے --- اور اس کیلیے اس کوزے کو توڑنا بھی جائز ہے۔ني ني كه همو بود كه مي آمد و مي رفت --- هر قرن كه ديدي
تا عاقبت آن شكل عرب وار برآمد -- داراي جهان شدوہی تھا جو ہرزمانے میں آتا رہا اور چاتا رہا - ہر زمانے نے دیکھا
لیکن بلآخر وہ ایک عرب (ص) کی شکل میں ظاہر ہوا -- اور وہی (ص) جہان کے بادشاہ ہیں۔ني ني كه همو بود كه مي گفت انا الحق --- در صوت الهي
منصور نبود آن كه بر آن دار برآمد --- نادان به گمان شدوہی تھا کہ جس نے کہا کہ میں ہی حق ہوں -- خدا کی آواز میں
وہ منصور نہیں تھا جو سولی پر ظاہر ہوا -- نادان اور نہ جاننے والوں کو یہی لگتا ہے کہ وہ منصور تھا۔رومي سخن كفر نگفته است و نگويد --- منكر نشويدش
كافر بود آن كس كه به انكار برآمد --- از دوزخيان شدرومی نے کبھی کفر کی بات نہیں کی اور نہ وہ کرتا ہے -- وہ منکر نہیں ہے
کافر تو وہ ہے جس نے انکار کیا تھا یعنی شیطان --- اور وہی دوزخیوں میں سے ہے
مولانا جلال الدین رومی
یوں تو برسوں نہ پلاؤں نہ پیوں اے زاہد
توبہ کرتے ہی بدل جاتی ہے نیت میری
....
اے ہم نفس نہ پوچھ جوانی کا ماجرا
موج نسیم تھی ادھر آئی ادھر گئی
........
عقل کو کیوں بتائیں عشق کا راز
غیر کو راز داں نہیں کرتے
........
دل کے طالب نظر آتے ہیں حسیں ہر جانب
اس کے لاکھوں ہیں خریدار کہ مال اچھا ہے
.......
دل میں کہتے ہیں کہ اے کاش نہ آئے ہوتے
ان کے آنے سے جو بیمار کا حال اچھا ہے
......
نہ رہی بے خودی شوق میں اتنی بھی خبر
ہجر اچھا ہے کہ محرومؔ وصال اچھا ہے
.......
میں وہ مجنوُں ہُوں ،کہ مجنُوں بھی ہمیشہ خط میں
قبلہ و کعبہ لِکھا کرتا ہے القاب مجھے
کُنجِ تنہائی میں دیتا ہُوں دِلاسے کیا کیا
دِلِ بیتاب کو مَیں، اور دِلِ بے تاب مجھے
شیخ محمد ابراہیم ذوق