AddThis

Welcome, as the name suggests, this blog is all about fantasy, literature, art and storytelling. Feedback/suggestions are welcomed. Enjoy! and follow for regular updates...
Showing posts with label modern poetry. Show all posts
Showing posts with label modern poetry. Show all posts

Sunday, 10 September 2017

منافقت

کوئی بھی پہل نہ کرنے کی ٹھان بیٹھا تھا

اناپرست تھے دونوں مفاہمت نہ ہوئی

وہ شخص اچھا لگا ہم کو ، صاف کہہ ڈالا

یہ دل کی بات تھی ہم سے منافقت نہ ہوئی

Wednesday, 6 September 2017

کوئی دابی پور کماد کی

کوئی دابی پور کماد کی ۔

اک منزل پچھلے چاند کی
نت روشن جس کی لو
وہ وقت کو پیچھے چھوڑ گئی
اسے دھنّے واد کہو
دابی ہوئی پور کماد کی
جو پھوٹی مگھر پوہ
کتنوں کو یہی اک چاہ تھی
وہ صرف مخاطب ہو
اے روپ جمال وصال کے
ترا کون سا ہے شبھ ناؤں
وہ جن میں تیرے لوگ تھے
کن گھاٹوں اترے گاؤں
کن صدیوں پر تری چھاؤنی
کن نسلوں پر تری چھاؤں
کہہ کتنی نرم دہائیاں
ترا دیکھتے گذریں روپ
کن پلکوں میں تری چھاؤں تھی
کن چہروں پر تری دھوپ
تری نظر نیازیں بانٹتی
بھکشا میں روپ سروپ
تو کس سرما کی چاندنی
گرما کی شکر دوپہر
تو صبح میں سویا بالکا
تو گاؤں میں پچھلا پہر
ست رنگا خواب فقیر کا
یا بھید بھری دوپہر
اک پوری نیند کی شانتی
تری کجلے والی لہر
اے سنبھلے جسم کی نازنیں
کئی عمریں تجھ پر تنگ
تو شبد قدیم کتاب سے
اظہار سے جس کی جنگ
تو ذات حیات کے ساتھ کی
کیوں نکلی غیر کے سنگ؟
تو سینوں بیچ پدھارتی
کیوں تو نے اوڑھے رنگ
میں شاعر پچھلے جنم کا
تو میری پرانی منگ
اب جیون اوڑھ کے آئی تو
سہہ تنہائی کے ڈھنگ

Tuesday, 5 September 2017

پسند ہے ؟

بات کرے تو کھل اٹھوں، لمس ملے تو جل اٹھوں
روح الگ پسند ہے، جسم جدا پسند ہے
بِھیڑ بہت ہے دوستا ! ایک ہی جاں ہے میرے پاس
وقف کروں ترے لئے؟ جلدی بتا ؟ پسند ہے ؟؟

علی زریون

Sunday, 3 September 2017

آنکھ موندے اس گلابی دھوپ میں دیر تک بیٹھے اسے سوچا کریں

دل ,محبت, دین ,دنیا ,شاعری.... ہر دریچے سے تجھے دیکھا کریں

Saturday, 2 September 2017

اترا ہوا ہے چاند کا چہرہ بتا گیا
اس کی نظر ہے آپ کے چہرے پہ پڑ گئی

جنوں کم ہے تو مجھ سے شاعری کم ہو رہی ہے
تمہیں پا کر مری دیوانگی کم ہو رہی ہے

مرے اندر کی سیلن بڑھ رہی ہے لمحہ لمحہ
بدن کی دھوپ سے وابستگی کم ہو رہی ہے

خود اپنی سوچ کے بر عکس جینا پڑ رہا ہے
ستم یہ ہے کہ سالی زندگی کم ہو رہی ہے

Azhar Iqbal

Friday, 1 September 2017

نظم

تم ثروت کو پڑھتی ھو؟
کتنی اچھی لڑکی ھو
میں جنت سے نکلا تھا
اور تم مجھ سے نکلی ھو
بات نہیں سنتی ھو،کیوں ؟
غزلیں بھی تو سنتی ھو
کیا رشتہ ھے شاموں سے ؟
سورج کی کیا لگتی ھو ؟
لوگ نہیں ڈرتے رب سے
تم لوگوں سے ڈرتی ھو ؟
آدم ؟؟ اور سدھر جائے ؟؟
تم بھی حد ھی کرتی ھو
میں تو جیتا ھوں تم میں
تم کیوں مجھ پر مرتی ھو ؟
مصرعوں میں باتیں کرنا
تم آسان سمجھتی ھو ؟
کیوں انکار کروں اِس کا ؟؟
تم اِس جسم میں رہتی ھو
پیار ھے یہ،"تبلیغ" نہیں
کس چکر میں پڑتی ھو ؟
کس نے جینز کری ممنوع ؟؟
پہنو ! اچھی لگتی ھو .. !
کافی ھو مُلتان کی تم
اور زریون کی مستی ھو !