جنوں کم ہے تو مجھ سے شاعری کم ہو رہی ہے تمہیں پا کر مری دیوانگی کم ہو رہی ہے
مرے اندر کی سیلن بڑھ رہی ہے لمحہ لمحہ بدن کی دھوپ سے وابستگی کم ہو رہی ہے
خود اپنی سوچ کے بر عکس جینا پڑ رہا ہے ستم یہ ہے کہ سالی زندگی کم ہو رہی ہے
Azhar Iqbal