AddThis

Welcome, as the name suggests, this blog is all about fantasy, literature, art and storytelling. Feedback/suggestions are welcomed. Enjoy! and follow for regular updates...
Showing posts with label اُردو. Show all posts
Showing posts with label اُردو. Show all posts

Monday, 2 October 2017

عدیم ہاشمی

تم سے بہتر کون ہے ساتھی تمہارا دوسرا​
ڈُھونڈتے ہو کِس لیے کوئی سہارا دوسرا​

تب کہیں سمجھا ہوں میں اُس کا اشارہ دوسرا​
اُس نے میرے ہاتھ پر جب ہاتھ مارا دوسرا​

اِتنی دُنیا، اِتنے چہرے، اِتنی آنکھیں چار سُو​
اُس نے پھر بھی کر دیا مجھ کو اِشارہ دوسرا​

آسماں پر کوئی تھوڑے سے سِتارے تو نہیں​
ایک چمکے کم اگر، چُن لو سِتارہ دوسرا​

مجھ کو تو پہلا کِنارہ بھی نظر آتا نہیں​
ہے کہاں بحرِ فلک تیرا کِنارہ دوسرا​

درمیاں پردہ رہا اِک دِن تکلف کا بہت​
بھید سارا کُھل گیا جب دِن گزارا دوسرا​

تب کہیں مہندی لگا وہ ہاتھ پہچانا گیا​
اُس نے دَر کی اوٹ سے جب پُھول مارا دوسرا​

جان دے دی اُس کے پہلے ہی اِشارے پر عدیم​
میں نے دیکھا ہی نہیں اُس کا اِشارہ دوسرا

Friday, 15 September 2017

اِقتدار قدر

کیا ضروری ہے کہ ہنگا مہءِ محشر بھی بَنوُں
وَجہِ تخلیقِ جَہاں ہوں یہ سزا کافی ہے

Tuesday, 12 September 2017

احمد مشتاق

ہزار شکر کہ ہم مصلحت شناس نہ تھے

کہ ہم نے جس سے کیا عشق، والہانہ کیا

جگر مرادآبادی

اب تو یہ بھی نہیں رہا احساس

درد ہوتا ہے یا نہیں ہوتا

عشق جب تک نہ کر چُکے رسوا

آدمی کام کا نہیں ہوتا

ٹوٹ پڑتا ہے دفعتاً جو عشق

بیشتر دیر پا نہیں ہوتا

وہ بھی ہوتا ہے ایک وقت کہ جب

ماسوا ماسوا نہیں ہوتا

ہائے کیا ہو گیا طبیعت کو

غم بھی راحت فزا نہیں ہوتا

دل ہمارا ہے یا تمھارا ہے

ہم سے یہ فیصلہ نہیں ہوتا

جس پہ تیری نظر نہیں ہوتی

اُس کی جانب خدا نہیں ہوتا

میں کے بے زار عمر بھر کے لئے

دل کہ دم بھر جدا نہیں ہوتا

وہ ہمارے قریب ہوتے ہیں

جب ہمارا پتہ نہیں ہوتا

دل کو کیا کیا سکون ہوتا ہے

جب کوئی آسرا نہیں ہوتا

ہو کے اِک بار سامنا اُن سے

پھر کبھی سامنا نہیں ہوتا

Monday, 11 September 2017

فیض احمد فیض

تجھ کو دیکھا ، تو سیر چشم ھُوئے

تجھ کو چاھا ، تو اور چاہ نہ کی

تیرے دست ستم کا عجز نہیں

دل ہی کافر تھا جس نےآہ نہ کی

”فیض احمد فیضؔ“

منیر نیازی

غم گساری کی طلب تھی یہ محبت تونہ تھی

دردجب دل میں اٹھاتھا تو چھپاتے اس کو

فائدہ کیاہے اگر اب وہ ملے بھی تو منیر

عمر توبیت گئی راہ پہ لاتے اسُ کو

Sunday, 10 September 2017

نصیرالدین نصیر

میری زندگی تو فراق ہے، وہ ازل سے دل میں مکیں سہی

وہ نگاہِ شوق سے دور ہیں، رگِ جاں سے لاکھ قریں سہی

ہمیں جان دینی ہے ایک دن، وہ کسی طرح ، وہ کہیں سہی

ہمیں آپ کھینچئے دار پر، جو نہیں کوئی تو ہمیں سہی

سرِ طور ہو، سرِ حشر ہو، ہمیں انتظار قبول ہے

وہ کبھی ملیں، وہ کہیں ملیں، وہ کبھی سہی، وہ کہیں سہی

نہ ہو اُن پہ جو مرا بس نہیں، کہ یہ عاشقی ہے ہوس نہیں

میں اُن ہی کا تھا، میں اُن ہی کا ہوں، وہ مرے نہیں، تو نہیں سہی

جوہو وہ فیصلہ وہ سُنائیے، اسے حشر پر نہ اُٹھائیے

جو کریں گے آپ ستم وہاں، وہ ابھی سہی، وہ یہیں سہی

اسے دیکھنے کی جو لو لگی، تو نصیر دیکھ ہی لیں گے ہم

وہ ہزار آنکھ سے دور ہو، وہ ہزار پردہ نشیں سہی

منافقت

کوئی بھی پہل نہ کرنے کی ٹھان بیٹھا تھا

اناپرست تھے دونوں مفاہمت نہ ہوئی

وہ شخص اچھا لگا ہم کو ، صاف کہہ ڈالا

یہ دل کی بات تھی ہم سے منافقت نہ ہوئی

علاج بالمثل

نشتر زخم لگاتا ہے تو نشتر سے کھلواتا ہوں

سلواتا ہوں

پھنیر نیل اتارتا ہے تو منکے میں رسواتا ہوں

کھنچواتا ہوں

پانی  گرمی گھولتا ہے

تو پانی کا ٹھنڈا پیالہ منگواتا ہوں

جب شب زندہ داری میں مے چڑھتی ہے

تو صبح صبوحی کی سیڑھی لگواتا ہوں

عورت چرکا دیتی ہے تو عورت کو بلواتا ہوں

دکھلاتا ہوں

اک عادت کے گھاؤ پہ دوسری عادت باندھا کرتا ہوں

میں عورت کے زخم کے اوپر عورت باندھا کرتا ہوں

وحید احمد

Friday, 8 September 2017

عادت

اس کی عادت ہے میرے بال بگاڑے رکھنا
اس کی کوشش ہے کسی اور کو اچھا نہ لگوں

Wednesday, 6 September 2017

کوئی دابی پور کماد کی

کوئی دابی پور کماد کی ۔

اک منزل پچھلے چاند کی
نت روشن جس کی لو
وہ وقت کو پیچھے چھوڑ گئی
اسے دھنّے واد کہو
دابی ہوئی پور کماد کی
جو پھوٹی مگھر پوہ
کتنوں کو یہی اک چاہ تھی
وہ صرف مخاطب ہو
اے روپ جمال وصال کے
ترا کون سا ہے شبھ ناؤں
وہ جن میں تیرے لوگ تھے
کن گھاٹوں اترے گاؤں
کن صدیوں پر تری چھاؤنی
کن نسلوں پر تری چھاؤں
کہہ کتنی نرم دہائیاں
ترا دیکھتے گذریں روپ
کن پلکوں میں تری چھاؤں تھی
کن چہروں پر تری دھوپ
تری نظر نیازیں بانٹتی
بھکشا میں روپ سروپ
تو کس سرما کی چاندنی
گرما کی شکر دوپہر
تو صبح میں سویا بالکا
تو گاؤں میں پچھلا پہر
ست رنگا خواب فقیر کا
یا بھید بھری دوپہر
اک پوری نیند کی شانتی
تری کجلے والی لہر
اے سنبھلے جسم کی نازنیں
کئی عمریں تجھ پر تنگ
تو شبد قدیم کتاب سے
اظہار سے جس کی جنگ
تو ذات حیات کے ساتھ کی
کیوں نکلی غیر کے سنگ؟
تو سینوں بیچ پدھارتی
کیوں تو نے اوڑھے رنگ
میں شاعر پچھلے جنم کا
تو میری پرانی منگ
اب جیون اوڑھ کے آئی تو
سہہ تنہائی کے ڈھنگ