ناصح سخنِ ساختہ ات پُر نمکین است
رحم است بزخمے کہ تو مرہم شدہ باشی
ابوالمعانی میرزا عبدالقادر بیدل
اے ناصح، تیری بنائی ہوئی باتیں تو نمک سے اَٹی پڑی ہیں، رحم اُس زخم پر کہ جس کا مرہم تُو بنا ہوگا۔
ناصح سخنِ ساختہ ات پُر نمکین است
رحم است بزخمے کہ تو مرہم شدہ باشی
ابوالمعانی میرزا عبدالقادر بیدل
اے ناصح، تیری بنائی ہوئی باتیں تو نمک سے اَٹی پڑی ہیں، رحم اُس زخم پر کہ جس کا مرہم تُو بنا ہوگا۔
کسی جانب سے بھی پرچم نہ لہو کا نکلا
اب کے موسم میں بھی عالم وہی ہُو کا نکلا
دستِ قاتل سے کچھ امیدِ شفا تھی لیکن
نوکِ خنجر سے بھی کانٹا نہ گلو کا نکلا
عشق الزام لگاتا تھا ہوس پر کیا کیا
یہ منافق بھی ترے وصل کا بھوکا نکلا
جی نہیں چاہتا میخانے کو جائیں جب سے
شیخ بھی بزم نشیں اہلِ سبو کا نکلا
دل کو ہم چھوڑ کے دنیا کی طرف آئے تھے
یہ شبستاں بھی اسی غالیہ مؤ کا نکلا
ہم عبث سوزن و رشتہ لیے گلیوں میں پھرے
کسی دل میں نہ کوئی کام رفو کا نکلا
یارِ بے فیض سے کیوں ہم کو توقع تھی فراز
جو نہ اپنا نہ ہمارا نہ عدو کا نکلا
احمد فراز
فضل احمد کریم فضلی
غموں سے کھیلتے رہنا کوئی ہنسی بھی نہیں
نہ ہو یہ کھیل تو پھر لطف زندگی بھی نہیں
نہیں کہ دل میں تمنا مرے کوئی بھی نہیں
مگر یہ بات کچھ ایسی کی گفتنی بھی نہیں
ابھی میں کیا اٹھوں نیت ابھی بھری بھی نہیں
ستم یہ اور کہ مے کی ابھی کمی بھی نہیں
ادائیں ان کی سناتی ہیں مجھ کو میری غزل
غزل بھی وہ کہ جو میں نے ابھی کہی بھی نہیں
حضور دوست مرے گو مگو کے عالم نے
کہا بھی ان سے جو کہنا تھا بات کی بھی نہیں
ہمارے ان کے تعلق کا اب یہ عالم ہے
کہ دوستی کا ہے کیا ذکر دشمنی بھی نہیں
کہا جو ترک محبت کو شیخ نے کھلا
فرشتہ تو نہیں لیکن یہ آدمی بھی نہیں
وحید اختر
دیوانوں کو منزل کا پتا یاد نہیں ہے
جب سے ترا نقش کف پا یاد نہیں ہے
افسردگی عشق کے کھلتے نہیں اسباب
کیا بات بھلا بیٹھے ہیں کیا یاد نہیں ہے
ہم دل زدگاں جیتے ہیں یادوں کے سہارے
ہاں مٹ گئے جس پر وہ ادا یاد نہیں ہے
گھر اپنا تو بھولی ہی تھی آشفتگی دل
خود رفتہ کو اب در بھی ترا یاد نہیں ہے
لیتے ہیں ترا نام ہی یوں جاگتے سوتے
جیسے کہ ہمیں اپنا خدا یاد نہیں ہے
یہ ایک ہی احسان غم دوست ہے کیا کم
بے مہری دوراں کی جفا یاد نہیں ہے
بے برسے گزر جاتے ہیں امڈے ہوئے بادل
جیسے انہیں میرا ہی پتا یاد نہیں ہے
اس بار وحیدؔ آپ کی آنکھیں نہیں برسیں
کیا جھومتی زلفوں کی گھٹا یاد نہیں ہے
دیومنی پانڈے
اس جہاں میں پیار مہکے زندگی باقی رہے
یہ دعا مانگو دلوں میں روشنی باقی رہے
آدمی پورا ہوا تو دیوتا ہو جائے گا
یہ ضروری ہے کہ اس میں کچھ کمی باقی رہے
دوستوں سے دل کا رشتہ کاش ہو کچھ اس طرح
دشمنی کے سائے میں بھی دوستی باقی رہے
دل کے آنگن میں اگے گا خواب کا سبزہ ضرور
شرط ہے آنکھوں میں اپنی کچھ نمی باقی رہے
عشق جب کریے کسی سے دل میں یہ جذبہ بھی ہو
لاکھ ہوں رسوائیاں پر عاشقی باقی رہے
دل میں میرے پل رہی ہے یہ تمنا آج بھی
اک سمندر پی چکوں اور تشنگی باقی رہے