AddThis

Welcome, as the name suggests, this blog is all about fantasy, literature, art and storytelling. Feedback/suggestions are welcomed. Enjoy! and follow for regular updates...

Friday, 11 January 2019

بیدِل

ناصح سخنِ ساختہ ات پُر نمکین است
رحم است بزخمے کہ تو مرہم شدہ باشی

ابوالمعانی میرزا عبدالقادر بیدل

اے ناصح، تیری بنائی ہوئی باتیں تو نمک سے اَٹی پڑی ہیں، رحم اُس زخم پر کہ جس کا مرہم تُو بنا ہوگا۔

Sunday, 6 January 2019

احمد فراز

کسی جانب سے بھی پرچم نہ لہو کا نکلا
اب کے موسم میں بھی عالم وہی ہُو کا نکلا

دستِ قاتل سے کچھ امیدِ شفا تھی لیکن
نوکِ خنجر سے بھی کانٹا نہ گلو کا نکلا

عشق الزام لگاتا تھا ہوس پر کیا کیا
یہ منافق بھی ترے وصل کا بھوکا نکلا

جی نہیں چاہتا میخانے کو جائیں جب سے
شیخ بھی بزم نشیں اہلِ سبو کا نکلا

دل کو ہم چھوڑ کے دنیا کی طرف آئے تھے
یہ شبستاں بھی اسی غالیہ مؤ کا نکلا

ہم عبث سوزن و رشتہ لیے گلیوں میں پھرے
کسی دل میں نہ کوئی کام رفو کا نکلا

یارِ بے فیض سے کیوں ہم کو توقع تھی فراز
جو نہ اپنا نہ ہمارا نہ عدو کا نکلا

احمد فراز ​

Tuesday, 18 December 2018

دوسطری

میں تیرا  حُسن اگر  پُھونک دوں دیواروں پر
شہر کا شہر ، طلسمات میں ڈھل جاۓ گا.......

Sunday, 16 December 2018

فضل احمد کریم فضلی

فضل احمد کریم فضلی
غموں سے کھیلتے رہنا کوئی ہنسی بھی نہیں
نہ ہو یہ کھیل تو پھر لطف زندگی بھی نہیں

نہیں کہ دل میں تمنا مرے کوئی بھی نہیں
مگر یہ بات کچھ ایسی کی گفتنی بھی نہیں

ابھی میں کیا اٹھوں نیت ابھی بھری بھی نہیں
ستم یہ اور کہ مے کی ابھی کمی بھی نہیں

ادائیں ان کی سناتی ہیں مجھ کو میری غزل
غزل بھی وہ کہ جو میں نے ابھی کہی بھی نہیں

حضور دوست مرے گو مگو کے عالم نے
کہا بھی ان سے جو کہنا تھا بات کی بھی نہیں

ہمارے ان کے تعلق کا اب یہ عالم ہے
کہ دوستی کا ہے کیا ذکر دشمنی بھی نہیں

کہا جو ترک محبت کو شیخ نے کھلا
فرشتہ تو نہیں لیکن یہ آدمی بھی نہیں

Wednesday, 12 December 2018

وحید اختر


وحید اختر
دیوانوں کو منزل کا پتا یاد نہیں ہے
جب سے ترا نقش کف پا یاد نہیں ہے
افسردگی عشق کے کھلتے نہیں اسباب
کیا بات بھلا بیٹھے ہیں کیا یاد نہیں ہے
ہم دل زدگاں جیتے ہیں یادوں کے سہارے
ہاں مٹ گئے جس پر وہ ادا یاد نہیں ہے
گھر اپنا تو بھولی ہی تھی آشفتگی دل
خود رفتہ کو اب در بھی ترا یاد نہیں ہے
لیتے ہیں ترا نام ہی یوں جاگتے سوتے
جیسے کہ ہمیں اپنا خدا یاد نہیں ہے
یہ ایک ہی احسان غم دوست ہے کیا کم
بے مہری دوراں کی جفا یاد نہیں ہے
بے برسے گزر جاتے ہیں امڈے ہوئے بادل
جیسے انہیں میرا ہی پتا یاد نہیں ہے
اس بار وحیدؔ آپ کی آنکھیں نہیں برسیں
کیا جھومتی زلفوں کی گھٹا یاد نہیں ہے

Monday, 10 December 2018

دیو منی پانڈے

دیومنی پانڈے

اس جہاں میں پیار مہکے زندگی باقی رہے
یہ دعا مانگو دلوں میں روشنی باقی رہے

آدمی پورا ہوا تو دیوتا ہو جائے گا
یہ ضروری ہے کہ اس میں کچھ کمی باقی رہے

دوستوں سے دل کا رشتہ کاش ہو کچھ اس طرح
دشمنی کے سائے میں بھی دوستی باقی رہے

دل کے آنگن میں اگے گا خواب کا سبزہ ضرور
شرط ہے آنکھوں میں اپنی کچھ نمی باقی رہے

عشق جب کریے کسی سے دل میں یہ جذبہ بھی ہو
لاکھ ہوں رسوائیاں پر عاشقی باقی رہے

دل میں میرے پل رہی ہے یہ تمنا آج بھی
اک سمندر پی چکوں اور تشنگی باقی رہے

Friday, 7 December 2018

دوسطری

چاہے سونے کے فریم میں جڑ دو
آئینہ جھوٹ بولتا ہی نہیں