یہاں آیا ھُوں اپنے عزم کو پہچان کر مَیں
سو دشتِ عشق میں چلتا ھُوں سینہ تان کر مَیں
رحمان فارس
یہاں آیا ھُوں اپنے عزم کو پہچان کر مَیں
سو دشتِ عشق میں چلتا ھُوں سینہ تان کر مَیں
رحمان فارس
میں اُٹھتا ہوں تو کانٹے پاؤں پڑ پڑ کر یہ کہتے ہیں
اجی بیٹھو بھی، کیوں ویران کرتے ہو بیاباں کو
(امیر مینائی)
غزل
سَــمَے نہ دیکھ ' ابھی گفتگو چلی ہی تو ہے
میں روک دوں گا کسی وقت بھی ، گھڑی ہی تو ہے
حَسین ہوتی ہے مرضی کی مَوت ، سامنے دیکھ!
یہ آبشــار بھی دریا کی خود کشی ہی تو ہے
بھٹکتا رہتا ہوں دن بھر اجــاڑ کمروں میں
وســیع گھر میں تجــُّرد بھی بے گھری ہی تو ہے
ترا جنون ہے جب تک، تو حَــظ اٹھا، خوش رہ
کہ عارضہ ہے ، مِرے دوست! عارضی ہی تو ہے
ترے بدن کے مطابق ڈھلے گی کچھ دن تک
ابھی چُبھے گی اداسی ، ابھی نئی ہی تو ہے
ہمارے دین میں جائز ہے تین روز کا سوگ
بچھڑ کے اُس سے ابھی رات دوسری ہی تو ہے
( عُمیــــر نجـــمـیؔ )
ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮐﺎ ﺍﮔﺮ ﺍﻓﺴﺎﻧﮧ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺠﮯ
ﮔﻠﮯ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﻭﮦ ﺑﯿﮕﺎﻧﮧ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺠﮯ
ﮨﻤﯿﮟ ﺳﻮ ﺑﺎﺭ ﺗﺮﮎِ ﻣﮯ ﮐﺸﯽ ﻣﻨﻈﻮﺭ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ
ﻧﻈﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﺨﺎﻧﮧ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺠﮯ
ﻧﻈﺮ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ﺳﺠﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﮐﺜﺮ ﺷﯿﺦ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ
ﻭﮦ ﺟﻠﻮﮦ، ﺟﻠﻮۂ ﺟﺎﻧﺎﻧﮧ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺠﮯ
ﺗﺮﮮ ﻣﻠﻨﮯ ﺳﮯ ﺟﻮ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﻣﻨﻊ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ
ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺗﺮﺍ ﺩﯾﻮﺍﻧﮧ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺠﮯ
ﺧﺪﺍ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﺳﻤﺠﮫ ﺭﮐّﮭﺎ ﮨﮯ ﺍﺏ ﺗﮏ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺟﺲ ﺩﻝ ﮐﻮ
ﻗﺘﯿﻞؔ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﮎ ﺑُﺘﺨﺎﻧﮧ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺠﮯ
ﻗﺘﯿﻞؔ ﺷﻔﺎﺋﯽ
غزل
(رحمان فارس)
۔
جب خزاں آئے تو پتے نہ ثمر بچتا ہے
خالی جھولی لیے ویران شجر بچتا ہے
نکتہ چیں! شوق سے دن رات مرے عیب نکال
کیونکہ جب عیب نکل جائیں، ہنر بچتا ہے
سارے ڈر بس اسی ڈر سے ہیں کہ کھو جائے نہ یار
یار کھو جائے تو پھر کون سا ڈر بچتا ہے
روز پتھراؤ بہت کرتے ہیں دنیا والے
روز مر مر کے مرا خواب نگر بچتا ہے
غم وہ رستہ ہے کہ شب بھر اسے طے کرنے کے بعد
صبحدم دیکھیں تو اتنا ہی سفر بچتا ہے
بس یہی سوچ کے آیا ہوں تری چوکھٹ پر
دربدر ہونے کے بعد اک یہی در بچتا ہے
اب مرے عیب زدہ شہر کے شر سے صاحب!
شاذ و نادر ہی کوئی اہل ہنر بچتا ہے
عشق وہ علم ریاضی ہے کہ جس میں فارس
دو سے جب ایک نکالیں تو صفر بچتا ہے