AddThis

Welcome, as the name suggests, this blog is all about fantasy, literature, art and storytelling. Feedback/suggestions are welcomed. Enjoy! and follow for regular updates...
Showing posts with label عمیر نجمی. Show all posts
Showing posts with label عمیر نجمی. Show all posts

Tuesday, 28 August 2018

عمیر نجمی

غزل

سَــمَے نہ دیکھ '  ابھی گفتگو چلی ہی تو ہے
میں روک دوں گا کسی وقت بھی ، گھڑی ہی تو ہے

حَسین ہوتی ہے مرضی کی مَوت ،  سامنے دیکھ!
یہ آبشــار بھی دریا کی خود کشی ہی تو ہے

بھٹکتا رہتا ہوں دن بھر اجــاڑ کمروں میں
وســیع گھر میں تجــُّرد بھی بے گھری ہی تو ہے

ترا جنون ہے جب تک، تو حَــظ اٹھا، خوش رہ
کہ عارضہ ہے ، مِرے دوست! عارضی ہی تو ہے

ترے بدن کے مطابق ڈھلے گی کچھ دن تک
ابھی چُبھے گی اداسی ،  ابھی نئی ہی تو ہے

ہمارے دین میں جائز ہے تین روز کا سوگ
بچھڑ کے اُس سے ابھی رات دوسری ہی تو ہے

( عُمیــــر نجـــمـیؔ )

Saturday, 28 July 2018

عمیر نجمی

شب بسر کرنی ہے، محفوظ ٹھکانہ ہے کوئی ؟
کوئی جنگل ہے یہاں پاس میں؟ صحرا ہے کوئی؟

ویسے سوچا تھا محبت نہیں کرنی میں نے
اس لئے کی کہ کبھی پوچھ ہی لیتا ہے کوئی

آپ کی آنکھیں تو سیلاب زدہ خطے ہیں
آپ کے دل کی طرف دوسرا رستہ ہے کوئی؟

جانتا ہوں کہ تجھے ساتھ تو رکھتے ہیں کئی
پوچھنا تھا کہ ترا دھیان بھی رکھتا ہے کوئی؟

دکھ مجھے اس کا نہیں ہے کہ دکھی ہے وہ شخص
دکھ تو یہ ہے کہ سبب میرے علاوہ ہے کوئی

دو منٹ بیٹھ، میں بس آئینے تک ہو آؤں
اُس میں اِس وقت مجھے دیکھنے آتا ہے کوئی

خوف بولا: "کوئی ہے؟ جس کو بُلانا ہے، بُلا!"
دیر تک سوچ کے میں زور سے چیخا: " ہے کوئی؟؟"

عمیر نجمی

Wednesday, 27 December 2017

عمیر نجمی

تم کو وحشت تو سکھا دی ہے، گزارے لائق
اور کوئی حکم؟  کوئی کام، ہمارے لائق؟

معذرت! میں تو کسی اور کے مصرف میں ہوں
ڈھونڈ دیتا ہوں مگر کوئی تمہارے لائق

ایک دو زخموں کی گہرائی اور آنکھوں کے کھنڈر
اور کچھ خاص نہیں مجھ میں نظارے لائق

گھونسلہ، چھاؤں، ہرا رنگ، ثمر، کچھ بھی نہیں
دیکھ! مجھ جیسے شجر ہوتے ہیں آرے لائق

دو وجوہات پہ اس دل کی اسامی نہ ملی
ایک) درخواست گزار اتنے؛ دو) سارے لائق

اس علاقے میں اجالوں کی جگہ کوئی نہیں
صرف پرچم ہے یہاں چاند ستارے لائق

مجھ نکمے کو چنا اس نے ترس کھا کے عمیر!
دیکھتے رہ گئے حسرت سے بچارے لائق

عمیر نجمی