ھمدم نہ ھو تو کیا بھلا پینے کا فائدہ ؟
بیٹھا ھُوں کب سے چائے کی دو پیالیوں کے ساتھ
رحمان فارس
ھمدم نہ ھو تو کیا بھلا پینے کا فائدہ ؟
بیٹھا ھُوں کب سے چائے کی دو پیالیوں کے ساتھ
رحمان فارس
🌹نذرِ جان ایلیا🌹
تُو میرے رُوکھے پن پر تلملا نئیں
مَیں جتنا بے مروّت اب ھُوں، تھا نئیں
خوشی بےحد سُہانی کیفیت ھے
مگر غم سے زیادہ دیرپا نئیں
مِرے اشکوں کو مت بہلائیں، جائیں
یہ میرا مسئلہ ھے، آپ کا نئیں
تو کیا تیرا نہیں ھے تیرا مُنکر ؟
تو کیا تُو اپنے مُنکر کا خُدا نئیں ؟
چلو مانا نہیں جَون ایلیا مَیں
مگر تُو بھی تو کوئی فارھہ نئیں
“محبت ھوگئی” کہنا غلط ھے
محبت زندگی ھے، واقعہ نئیں
مُجھے الزام مت دے، بنتِ حوّا !
مَیں آدم ھُوں، فرشتہ نئیں، خُدا نئیں
یہی ھے داستانِ وصلِ جاناں
کہ کچھ کچھ تو ھُوا، کچھ کچھ ھُوا نئیں
تکلّف چھوڑ فارس ! پاؤں پڑ جا
ابھی وہ جانے والا ھے، گیا نئیں
رحمان فارس
چلا تو آیا ھُوں مَیں، آگے جو مِری قسمت
وہ در مرے لیے وا ھو نہ ھو، مِری قسمت
تُمہیں بسایا تھا دل میں، تُم آستیں میں رھے
تمہارا دوش نہیں دوستو ! مِری قسمت
اگر مَیں شہد خریدُوں تو کڑوا نکلے گا
تُم اتنی بات سے ھی جان لو مِری قسمت
تھمائی کاتبِ تقدیر کو لہُو کی دوات
پھر اُس سے مَیں نے کہا: اب لکھو مِری قسمت
تُو لکھ کے لایا تھا سکّے کے دونوں رُخ مری ھار
مَیں پھر بھی جیت گیا یار تو مِری قسمت
وہ شخص آیا نہیں، آنکھیں مُند گئیں میری
عزیزو ! دوستو ! نوحہ گرو ! مِری قسمت
مرا بھی مُلکِ محبت پہ راج ھو فارس
اگر جناب کی قسمت سی ھو مِری قسمت
رحمان فارس
یہاں آیا ھُوں اپنے عزم کو پہچان کر مَیں
سو دشتِ عشق میں چلتا ھُوں سینہ تان کر مَیں
رحمان فارس
غزل
(رحمان فارس)
۔
جب خزاں آئے تو پتے نہ ثمر بچتا ہے
خالی جھولی لیے ویران شجر بچتا ہے
نکتہ چیں! شوق سے دن رات مرے عیب نکال
کیونکہ جب عیب نکل جائیں، ہنر بچتا ہے
سارے ڈر بس اسی ڈر سے ہیں کہ کھو جائے نہ یار
یار کھو جائے تو پھر کون سا ڈر بچتا ہے
روز پتھراؤ بہت کرتے ہیں دنیا والے
روز مر مر کے مرا خواب نگر بچتا ہے
غم وہ رستہ ہے کہ شب بھر اسے طے کرنے کے بعد
صبحدم دیکھیں تو اتنا ہی سفر بچتا ہے
بس یہی سوچ کے آیا ہوں تری چوکھٹ پر
دربدر ہونے کے بعد اک یہی در بچتا ہے
اب مرے عیب زدہ شہر کے شر سے صاحب!
شاذ و نادر ہی کوئی اہل ہنر بچتا ہے
عشق وہ علم ریاضی ہے کہ جس میں فارس
دو سے جب ایک نکالیں تو صفر بچتا ہے
خوشبوئے گل نظر پڑے، رقصِ صبا دکھائی دے
دیکھا تو ہے کسی طرف، دیکھئے کیا دکھائی دے
تب میں کہوں کہ آنکھ نے دید کا حق ادا کیا
جب وہ جمالِ کم نما دیکھے بنا دکھائی دے