AddThis

Welcome, as the name suggests, this blog is all about fantasy, literature, art and storytelling. Feedback/suggestions are welcomed. Enjoy! and follow for regular updates...
Showing posts with label احمد مشتاق. Show all posts
Showing posts with label احمد مشتاق. Show all posts

Monday, 30 July 2018

احمد مشتاق


یہ کہنا تو نہیں کافی کہ بس پیارے لگے ہم کو

انہیں کیسے بتائیں ہم کہ وہ کیسے لگے ہم کو

مکیں تھے یا کسی کھوئی ہوئی جنت کی تصویریں

مکاں اس شہر کے بھولے ہوئے سپنے لگے ہم کو ہم

ان کو سوچ میں گم دیکھ کر واپس پلٹ آئے

وہ اپنے دھیان میں بیٹھے ہوئے اچھے لگے ہم کو

بہت شفاف تھے جب تک کہ مصروف تمنا تھے

مگر اس کار دنیا میں بڑے دھبے لگے ہم کو

جہان تنہا ہوئے دل میں بھنور سے پڑنے لگتے ہیں

اگرچہ مدتیں گزریں کنارے سے لگے ہم کو

احمد مشتاق

اہلِ ہوس تو خیر ہوس میں ہوۓ ذلیل





وہ بھی ہوۓ خراب محبت جنہوں نے کی

احمد مشتاق


ہاتھ سے ناپتا ہوں درد کی گہرائی کو

یہ نیا کھیل ملا ہے مری تنہائی کو

تھا جو سینے میں چراغ دل پرخوں نہ رہا

چاٹیے بیٹھ کے اب صبر و شکیبائی کو

دل افسردہ کسی طرح بہلتا ہی نہیں

کیا کریں آپ کی اس حوصلہ افزائی کو

خیر بدنام تو پہلے بھی بہت تھے لیکن

تجھ سے ملنا تھا کہ پر لگ گئے رسوائی کو

نگہ ناز نہ ملتے ہوئے گھبرا ہم سے

ہم محبت نہیں کہنے کے شناسائی کو

دل ہے نیرنگی ایام پہ حیراں اب تک

اتنی سی بات بھی معلوم نہیں بھائی کو

Friday, 20 July 2018

احمد مشتاق

خیر اوروں نے بھی چاہا تو ہے تجھ سا ہونا
یہ الگ بات کہ ممکن نہیں ایسا ہونا

دیکھتا اور نہ ٹھہرتا تو کوئی بات بھی تھی
جس نے دیکھا ہی نہیں اس سے خفا کیا ہونا

تجھ سے دوری میں بھی خوش رہتا ہوں پہلے کی طرح
بس کسی وقت برا لگتا ہے تنہا ہونا

یوں میری یاد میں محفوظ ہیں تیرے خد و خال
جس طرح دل میں کسی شے کی تمنا ہونا

زندگی معرکۂ روح و بدن ہے مشتاقؔ
عشق کے ساتھ ضروری ہے ہوس کا ہونا

Friday, 13 July 2018

احمد مشتاق

سنگ اٹھانا تو بڑی بات ہے اب شہر کے لوگ
آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے دیوانے کو
.
احمد مشتاق

Tuesday, 12 September 2017

احمد مشتاق

ہزار شکر کہ ہم مصلحت شناس نہ تھے

کہ ہم نے جس سے کیا عشق، والہانہ کیا