AddThis

Welcome, as the name suggests, this blog is all about fantasy, literature, art and storytelling. Feedback/suggestions are welcomed. Enjoy! and follow for regular updates...

Thursday, 12 October 2017

نصیرالدین نصیر

بہلتے کس جگہ ، جی اپنا بہلانے کہاں جاتے
تری چوکھٹ سے اُٹھ کر تیرے دیوانے کہاں جاتے

نہ واعظ سے کوئی رشتہ، نہ زاہد سے شناسائی
اگر ملتے نے رندوں کو تو پیمانے کہاں جاتے

خدا کا شکر ، شمعِ رُخ لیے آئے وہ محفل میں
جو پردے میں چُھپے رہتے تو پروانے کہاں جاتے

اگر ہوتی نہ شامل رسمِ دنیا میں یہ زحمت بھی
کسی بے کس کی میّت لوگ دفنانے کہاں جاتے

اگر کچھ اور بھی گردش میں رہتے دیدہِ ساقی
نہیں معلوم چکّر کھا کے میخانے کہاں جاتے

خدا آباد رکّھے سلسلہ اِس تیری نسبت کا
وگرنہ ہم بھری دنیا میں پہچانے کہاں جاتے

نصیرؔ اچھا ہوا در مل گیا اُن کا ہمیں ، ورنہ
کہاں رُکتے ، کہاں تھمتے ، خدا جانے کہاں جاتے​

ظفر اقبال

اسی زرد پھول کی بد دعا ہے، ظفر یہ دل کی فسردگی
مرا منتظر رہا مدتوں جو پس نقاب کھلا ہوا

Wednesday, 11 October 2017

عرفان ستار

تیرے لہجے سے تیرا جہلِ دروں بولتا ہے
بات کرنا نہیں آتی  ہے تو کیوں  بولتا ہے

عرفان ستار

Tuesday, 10 October 2017

بہادر شاہ ظفر


ٹکڑے نہیں جگر کے ہیں اشکوں کے تا ر میں
یہ لعل موتیوں کے پروئے ہیں ہار میں

قطرے نہیں پسینہ کے ہیں زلفِ یار میں
دُرّانی آگئے ہیں یہ مُلکِ تَتار میں

سُرمہ نہیں لگا ہوا مژگانِ یار میں
ہے زنگ سا لگا ہوا خنجر کی دھار میں

ساقی شتاب دے مجھے تو بھر کے جامِ مے
بیٹھا ہوں بے حواس نشہ کے اُتار میں

ہم حُسنِ گندمی پہ ترے ہو کے شیفتہ
کیا کیا ذلیل و خوار ہیں قرب و جوار میں

بعد از فنا بھی کم نہ ہوئی سوزشِ جگر
گرمی ہے اب تلک مرے خاکِ مزار میں

سایہ میں زلف کے ہے کہاں روئے تابناک
ہے چاند سا چھپا ہوا ابر بہار میں

مثلِ غبار اُٹھ کے جو تیری گلی سے جائے
طاقت کہا ں ہے اتنی ترے خاکسار میں

اُس ر شکِ گل کو اب تو دیا ہم نے دل ظفرؔ
کہہ دیں گے ہم زبان سے سو میں ہزار میں

نوح ناروی

اچھی کہی کہ قدر محبت کریں گے ہم
دھوکہ تم اس کو دو جو تمہیں جانتا نہ ہو

نوح ناروی

Monday, 9 October 2017

عرفان صدیقی

میرے ہونے میں کسی طور شامل ہو جاو
تم مسیحا نہیں ہوتے تو۔۔۔ قاتل ہو جاو

وہ ستم گر ، تمہیں تسخیر کیا چاہتا ھے
خاک بن جاو اور اس شخص کو حاصل ہو جاو

ابھی پیکر ہی جلا ھے تو یہ عالم ھے میاں !
اگر یہ روح میں لگ جائے تو ۔۔۔کامل ہو جاو

عرفان صدیقی ۔۔۔۔!!

وارث کرمانی

قضا جو دے تو الٰہی ذرا بدل کے مجھے
ملے یہ جام انہی انکھڑیوں میں ڈھل کے مجھے

میں اپنے دل کے سمندر سے تشنہ کام آیا
پکارتی رہیں موجیں اچھل اچھل کے مجھے

نگاہ  جس  کے لیے  بے  قرار  رہتی  تھی
سزا ملی ہے اسے روشنی سے جل کے مجھے

میں رہزنوں کو کہیں اور دیکھتا  ہی رہا
کسی نے لوٹ لیا پاس سے نکل کے مجھے

کہاں نجوم، کہاں راستے  کی گردِ حقیر
عجیب وہم ہوا تیرے ساتھ چل کے مجھے

اب ایک سایہِ بے خانماں بھی ساتھ میں ہے
یہ کیا ملا ہے ترے شہر سے نکل کے مجھے

وہی  حقیقتِ  عمرِ  دراز  بن  کے  رہے
کسی نے خواب دیے تھے جو چند پل کے مجھے

کوئی بھی  جب ہدفِ خنجرِ  ادا نہ ملا
وہ دشتِ غم سے اٹھا لے گئے مچل کے مجھے

وارث کرمانی