دل کا جو حال ہوا دشمنِ جانی کا نہ ہو
آخرِ شب کبھی آغاز کہانی کا نہ ہو
کون مانے گا کہ گزرے ہوئے موسم کیا تھے
جب قبا پر کوئی پیوند نشانی کا نہ ہو
عرفان صدیقی
دل کا جو حال ہوا دشمنِ جانی کا نہ ہو
آخرِ شب کبھی آغاز کہانی کا نہ ہو
کون مانے گا کہ گزرے ہوئے موسم کیا تھے
جب قبا پر کوئی پیوند نشانی کا نہ ہو
عرفان صدیقی
میرے ہونے میں کسی طور شامل ہو جاو
تم مسیحا نہیں ہوتے تو۔۔۔ قاتل ہو جاو
وہ ستم گر ، تمہیں تسخیر کیا چاہتا ھے
خاک بن جاو اور اس شخص کو حاصل ہو جاو
ابھی پیکر ہی جلا ھے تو یہ عالم ھے میاں !
اگر یہ روح میں لگ جائے تو ۔۔۔کامل ہو جاو
عرفان صدیقی ۔۔۔۔!!