یوں ہی درست ہوگی طبیعت تری عدمؔ
کمبخت بھول جا کہ طبیعت اداس ہے
توبہ تو کر چکا ہوں مگر پھر بھی اے عدمؔ
تھوڑا سا زہر لا کہ طبیعت اداس ہے
.....
ہنس کے آپ جھوٹ بولتے ہیں
دل میں کتنی مٹھاس گھولتے ہیں
دنیا کتنی حسین لگتی ہے
آپ جب مسکرا کر بولتے ہیں
......
یہ سمجھ کے سچ جانا ہم نے تیری باتوں کو
اتنے خوب صورت لب جھوٹ کیسے بولیں گے
.....
عدم
AddThis
Welcome, as the name suggests, this blog is all about fantasy, literature, art and storytelling. Feedback/suggestions are welcomed.
Enjoy! and follow for regular updates...
Showing posts with label عبد الحمید عدم. Show all posts
Showing posts with label عبد الحمید عدم. Show all posts
Monday, 12 March 2018
عدم
Thursday, 14 September 2017
عبد الحمید عدم
ہم نے حسرتوں کے داغ آنسوؤں سے دھو لیے
آپ کی خوشی حضور بولئے نہ بولئے
کیا حسین خار تھے جو مری نگاہ نے
سادگی سے بارہا روح میں چبھو لیے
موسم بہار ہے عنبریں خمار ہے
کس کا انتظار ہے گیسوؤں کو کھولیے
زندگی کا راستہ کاٹنا تو تھا عدمؔ
جاگ اٹھ تو چل دیئے تھک گئے تو سو لیے
Subscribe to:
Posts (Atom)