مجھ سے ملنے کے وہ کرتا تھا بہانے کتنے
اب گزارے گا مرے ساتھ زمانے کتنے
میں گرا تھا تو بہت لوگ رکے تھے لیکن،
سوچتا ہوں مجھے آئے تھے اٹھانے کتنے
جس طرح میں نے تجھے اپنا بنا رکھا ہے،
سوچتے ہوں گے یہی بات نہ جانے کتنے
تم نیا زخم لگاؤ تمہیں اس سے کیا ہے،
بھرنے والے ہیں ابھی زخم پرانے کتنے
سیماب اکبر آبادی
AddThis
Sunday, 26 May 2019
سیماب اکبر آبادی
Tuesday, 30 January 2018
سیماب اکبر آبادی
نسیم صبح گلشن میں گلوں سے کھیلتی ہوگی
کسی کی آخری ہچکی کسی کی دل لگی ہوگی
تجھے دانستہ محفل میں جو دیکھا ہو تو مجرم ہوں
نظر آخر نظر ہے بے ارادہ اٹھ گئی ہوگی
مزہ آ جائے گا محشر میں کچھ سننے سنانے کا
زباں ہوگی ہماری اور کہانی آپ کی ہوگی
یہی عالم رہا پردہ نشینی کا تو ظاہر ہے
خدائی آپ سے ہوگی نہ ہم سے بندگی ہوگی
تعجب کیا لگی جو آگ اے سیمابؔ سینے میں
ہزاروں دل میں انگارے بھرے تھے لگ گئی ہوگی
سیماب اکبر آبادی
سبو پر جام پر شیشے پہ پیمانے پہ کیا گزری
نہ جانے میں نے توبہ کی تو مے خانے پہ کیا گزری
ملیں تو فائزان منزل مقصود سے پوچھوں
گزر گاہ محبت سے گزر جانے پہ کیا گزری
کسی کو میرے کاشانے سے ہمدردی نہیں شاید
ہر اک یہ پوچھتا ہے میرے کاشانے پہ کیا گزری
نہ ہو جو زندگی انجام وہ وجدان ناقص ہے
حضور شمع بعد وجد پروانے پہ کیا گزری
بتائیں برہمن اور شیخ ان کی خانہ جنگی میں
خدا خانے پہ کیا بیتی صنم خانے پہ کیا گزری
تو اپنے ہی مآل سوز غم پر غور کر پہلے
تجھے اس سے نہیں کچھ بحث پروانے پہ کیا گزری
کسی حکمت سے کر دے کوئی گویا مرنے والوں کو
یہ راز اب تک ہے سربستہ کہ مر جانے پہ کیا گزری
تری ہر سو تجلی اور میری ہر طرف نظریں
تجھے تو یاد ہوگا آئینہ خانے پہ کیا گزری
زباں منہ میں ہے عرض حال کر تو نے تو دیکھا ہے
کہ خوئے ضبط و خاموشی سے پروانے پہ کیا گزری
وہ کہتا تھا خدا جانے بہار آئے تو کیا گزرے
خدا جانے بہار آئی تو دیوانے پہ کیا گزری
یہ ہے سیمابؔ اک نا گفتہ بہ افسانہ کیا کہیے
وطن سے کنج غربت میں چلے آنے پہ کیا گزری