AddThis

Welcome, as the name suggests, this blog is all about fantasy, literature, art and storytelling. Feedback/suggestions are welcomed. Enjoy! and follow for regular updates...
Showing posts with label انجم سلیمی. Show all posts
Showing posts with label انجم سلیمی. Show all posts

Monday, 30 July 2018

انجم سلیمی


ہجر کی شام فسردہ تھی سو رخصت نہیں کی
اُس نے بھی صبر کیا, میں نے بھی عجلت نہیں کی

ایک سر سبز تعلق کو بچانے کے لیے
میں نے صحرا سے کنارہ کیا, وحشت نہیں کی

ایک شب میں تمہیں کیا کیا میں سکھاؤں مِرے دوست
تم نے کیا پہلے کسی سے بھی محبت نہیں کی

گفتگو رہتی ہے آنکھوں کی زبانی پہروں
میں نے اس کی ابھی آواز سماعت نہیں کی

یوں سلیقے سے سہے اُس کے روّیئے خود پر
اپنے آگے بھی کبھی اس کی شکائت نہیں کی

ہنسی آتی تھی مگر خود پہ بہت ظلم کیا
میں نے اک غم کی امانت میں خیانت نہیں کی

انجم سلیمی


کیا کروں, کیسے کروں دوست کہ جب ہے ہی نہیں
جو محبت میں کشش ہوتی تھی, اب ہے ہی نہیں

اور کب تک اسے حیرانی سے دیکھے جاؤں
یار اس دنیا میں تو کچھ بھی عجب ہے ہی نہیں

جانتا ہوں کہ ہوس کیا ہے , ضرورت کیا ہے
مطمئن ہوں کہ مجھے کوئی طلب ہے ہی نہیں

جیسے جی چاہے یہاں خاک اڑاؤ تم بھی
دشت میں کوئی سلیقہ, کوئی ڈھب ہے ہی نہیں

کیا بتاؤں میں خدا اور اداسی کا پتہ
یوں بھی دونوں کا کوئی خاص سبب ہے ہی نہیں