AddThis

Welcome, as the name suggests, this blog is all about fantasy, literature, art and storytelling. Feedback/suggestions are welcomed. Enjoy! and follow for regular updates...
Showing posts with label اقبال عظیم. Show all posts
Showing posts with label اقبال عظیم. Show all posts

Sunday, 25 November 2018

اقبال عظیم

وہ یوں ملا کہ بظاہر خفا خفا سا لگا
نہ جانے کیوں وہ مجھے پھر بھی با وفا سا لگا

مزاج اس نے نہ پوچھا، مگر سلام لیا
یہ بے رخی کا سلیقہ بھی کچھ بھلا سا لگا

غبارِ وقت نے کچھ یوں بدل دئے چہرے
خود اپنا شہر بھی مجھ کو نیا نیا سا لگا

گھٹی گھٹی سی لگی رات انجمن کی فضا
چراغ جو بھی جلا، کچھ بجھا بجھا سا لگا

جو ہم پہ گزری ہے شاید سبھی پہ گزری ہو
فسانہ جو بھی سنا، کچھ سنا سنا سا لگا

مجال  عرضِ  تمنا  کرے  کوئی  کیسے
جو لفظ ہونٹوں پہ آیا ڈرا ڈرا سا لگا

میں گھر سے چل کے اکیلا یہاں تک آیا ہوں
جو ہم سفر بھی ملا، کچھ تھکا تھکا سا لگا

اسی کا نام ہے شائستگی، و پاسِ وفا
پلک تک آ کے جو آنسو تھما تھما سا لگا

کچھ اس خلوص سے اس نے مجھے کہا " اقبال "
خود اپنا نام بھی مجھ کو بڑا بڑا سا لگا

(اقبال عظیم)

Tuesday, 5 December 2017

اقبال عظیم

منصب تو ہمیں بھی مل سکتے تھے لیکن شرط حضوری تھی
یہ شرط ہمیں منظور نہ تھی، بس اتنی سی مجبوری تھی

کہتے ہیں کہیں اک نگری تھی، سلطان جہاں کا جابر تھا
اور جبر کا اذنِ عام بھی تھا، یہ رسم وہاں جمہوری تھی

ہم ٹھوکر کھا کر جب بھی گرے،   رہ گیروں کو آواز نہ دی
وہ آنکھوں کی معذوری تھی، یہ غیرت کی مجبوری تھی

لہجے میں انا، ماتھے پہ شکن، اس وقت کا عین تقاضا ہے
اب  ہر وہ بات  ضروری ہے  جو پہلے  غیر ضروری تھی

ہم  اہلِ سخن  کی  قیمت  ہے  اقبال  زبانی  داد و  دہش
کل محفل میں جو ہم کو ملی وہ داد نہ تھی،مزدوری تھی

(اقبال عظیم)

Friday, 22 September 2017

اقبال عظیم

مجھے اپنے ضبط پہ ناز تھا سر بزم رات یہ کیا ہوا
مری آنکھ کیسے چھلک گئی مجھے رنج ہے یہ برا ہوا
مری زندگی کے چراغ کا یہ مزاج کوئی نیا نہیں
ابھی روشنی ابھی تیرگی نہ جلا ہوا نہ بجھا ہوا
مجھے جو بھی دشمن جاں ملا وہی پختہ کار جفا ملا
نہ کسی کی ضرب غلط پڑی نہ کسی کا تیر خطا ہوا
مجھے آپ کیوں نہ سمجھ سکے یہ خود اپنے دل ہی سے پوچھیے
مری داستان حیات کا تو ورق ورق ہے کھلا ہوا
جو نظر بچا کے گزر گئے مرے سامنے سے ابھی ابھی
یہ مرے ہی شہر کے لوگ تھے مرے گھر سے گھر ہے ملا ہوا
ہمیں اس کا کوئی بھی حق نہیں کہ شریک بزم خلوص ہوں
نہ ہمارے پاس نقاب ہے نہ کچھ آستیں میں چھپا ہوا
مجھے اک گلی میں پڑا ہوا کسی بد نصیب کا خط ملا
کہیں خون دل سے لکھا ہوا کہیں آنسوؤں سے مٹا ہوا
مجھے ہم سفر بھی ملا کوئی تو شکستہ حال مری طرح
کئی منزلوں کا تھکا ہوا کہیں راستوں میں لٹا ہوا
ہمیں اپنے گھر سے چلے ہوئے سر راہ عمر گزر گئی
کوئی جستجو کا صلہ ملا نہ سفر کا حق ہی ادا ہوا