AddThis

Welcome, as the name suggests, this blog is all about fantasy, literature, art and storytelling. Feedback/suggestions are welcomed. Enjoy! and follow for regular updates...
Showing posts with label اختر الایمان. Show all posts
Showing posts with label اختر الایمان. Show all posts

Monday, 30 July 2018

اختر الایمان


ہوائیں لے گئیں وہ خاک بھی اڑا کے جسے

کبھی تمہارے قدم چھو گئے تھے اور میں نے

یہ جی سے چاہا تھا دامن میں باندھ لوں گا اسے

سنا تھا میں نے کبھی یوں ہوا ہے دنیا میں

کہ آگ لینے گئے اور پیمبری پائی

کبھی زمیں نے سمندر اگل دیے لیکن

بھنور ہی لے گئے کشتی بچا کے طوفاں سے

میں سوچتا ہوں پیمبر نہیں اگر نہ سہی

کہ اتنا بوجھ اٹھانے کی مجھ میں تاب نہ تھی

مگر یہ کیوں نہ ہوا غم ملا تھا دوری کا

تو حوصلہ بھی ملا ہوتا سنگ و آہن سا

مگر خدا کو یہ سب سوچنے کا وقت کہاں؟

Sunday, 22 October 2017

اختر الایمان

" آخری ملاقات "

آؤ کہ جشنِ مرگِ محبت منائیں ہم
آتی نہیں کہیں سے دلِ زندہ کی صدا
سونے پڑے ہیں کوچہ و بازار عشق کے
ہے شمعِ انجمن کا نیا حسنِ جاں گداز
شاید نہیں رہے وہ پتنگوں کے ولولے
تازہ نہ رہ سکیں گی روایاتِ دشت و در
وہ فتنہ سر گئے جنہیں کانٹے عزیز تھے

اب کچھ نہیں تو نیند سے آنکھیں جلائیں ہم
آؤ کہ جشنِ مرگِ محبت منائیں ہم

سوچا نہ تھا کہ آئے گا یہ دن بھی پھر کبھی
اک بار پھر ملے ہیں، ذرا مسکرا تو لیں
کیا جانے اب نہ الفتِ دیرینہ یاد آئے
اس حسنِ اختیار پہ آنکھیں جھکا تو لیں
برسا لبوں سے پھول تری عمر ہو دراز
سنبھلے ہوئے تو ہیں پہ ذرا ڈگمگا تو لیں

اور اپنا اپنا عہدِ وفا بھول جائیں ہم
آؤ کہ جشنِ مرگِ محبت منائیں ہم

برسوں کی بات ہے کہ مرے جی میں آئی تھی
میں سوچتا تھا تجھ سے کہوں، چھوڑ کیا کہوں
اب کون ان شکستہ مزاروں کی بات لائے
ماضی پہ اپنے حال کو ترجیح کیوں نہ دوں
ماتم خزاں کا ہو کہ بہاروں کا، ایک ہے
شاید نہ پھر ملے تری آنکھوں کا یہ فسوں

جو شمعِ انتظار جلی تھی بجھائیں ہم
آؤ کہ جشنِ مرگِ محبت منائیں ہم

(اختر الایمان)