ﺗﯿﺮﮮ ﺻﺪﻗﮯ ﻭﮦ ﺍُﺳﯽ ﺭﻧﮓ ﻣﯿﮟ ﺧُﻮﺩ ﮨﯽ ﮈُﻭﺑﺎ
ﺟﺲ ﻧﮯ ﺟﺲ ﺭﻧﮓ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﮨﺎ ﻣُﺠﮭﮯ ﺭُﺳﻮﺍ ﮐﺮﻧﺎ
_____________
AddThis
Saturday, 30 September 2017
بلا عنوان
عبد الحمید عدم
تجھ سے کیا چیز قیمتی ھو گی؟؟
تُو تو پیارے !! میرا حبیب ھُوا
دو ھی با ذوق آدمی ھیں ، عدم
میں ھُوا , یا میرا رقیب ھُوا
”عبدالحمّید عدم“
محبوب عظیمی
یہ مکافاتِ عمل ھے ، ابھی کچھ عرصے میں
تجھے بھی ھو گی محبت ، کسی بد ذات کے ساتھ
”محبوب عظیمی“
Friday, 29 September 2017
شہزاد نیر
" شکست کس کی "
عجیب منظر ہے !
دشت ِ کرب و بلا میں
خیموں کی ایک بستی نے
کاخ ِ شاھی گرا دیا ہے
زمانہ دیکھے
کہ بے ردائی نے سچ کے نیزے سے
جھوٹ کا پردہ نوچ ڈالا ہے
پیاس کے بے کراں سمندر سے
صبر کی ایک موج آکر
فرات سارا نگل گئی ہے
یہ کیسا منظر ھے !
مشک بردار بازوؤں سے
کسی نے تلوار کاٹ دی ھے
گلوئے اصغر نے نوک ِناوک کو مات دی ھے
عجیب منظر ھے !
ایک شہہ رگ نے
دھار خنجر کی کند کر دی ھے
ایک سر وہ جو اپنے تن سے جدا ھوا ھے
مرا نہیں ھے
مقابلے میں وہ کتنے سر تھے
جو زندہ بچنے پہ ناز کرتے تھے
اب شہیدوں کی زندگی سے
شکست کھا کر مرے پڑے ھیں
شہزاد نیر
Wednesday, 27 September 2017
قمر نقوی
پھر سے ترے نقوش نظر پہ عیاں ہوئے
لو پھر وصال یار کے لمحے جواں ہوئے
اک بات بڑھ کے باعث ناراضگی ہوئی
کچھ لفظ منہ سے نکلے تو آہ و فغاں ہوئے
تیرے سبھی دروغ وجاہت میں چھپ گئے
اور میری صاف بات پہ کتنے گماں ہوئے
کیوں کر کریں گے یاد وہ درد فراق میں
ہم اس قدر قریب بھی ان کے کہاں ہوئے
مہلت ہی کب ملی کہ سنبھل پاتے ہم قمرؔ
ہم پر تو جتنے ظلم ہوئے ناگہاں ہوئے
قمر نقوی۔۔۔!!!
Tuesday, 26 September 2017
میر تقی میر
یوں پکاریں ہیں مجھے کوچہ جاناں والے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ادھر آ بے! ابے ہو چاک گریباں والے
( میر تقی میر )