( حمایت علی شاعر)
تجھ کو معلوُم نہیں، تجھ کو بَھلا کیا معلوُم !
تیری زُلفیں، تری آنکھیں ، ترے عارض، ترے ھونٹ
کیسی انجانی سی معصُوم خطا کرتے ھیں
اتنا مانوس ھے تیرا ھر اِک انداز کہ دِل
تیری ھر بات کا افسانہ بنا لیتا ھے
ترے ترشے ہوئے پیکر سے چُرا کر کچھ رنگ
اپنے خوابوں کا صنم خانہ سجا لیتا ھے
خلوتِ بزم ہو یا جلوتِ تنہائی ہو
ترا پیکر مِری نظروں میں اُتر آتا ہے
کوئی ساعت ہو، کوئی فکر ہو، کوئی ماحول
مجھ کو ہر سمت تِرا حُسن نظر آتا ھے
چلتے چلتے جو قدم آپ ٹھٹھک جاتے ھیں
سوچتا ہوں کہ کہیں توُ نے پُکارا تو نہیں
گمُ سی ہو جاتی ہیں نظریں، تو خیال آتا ھے
اِس میں پنہاں تِری آنکھوں کا اِشارہ تو نہیں
جانے اِس حُسنِ تصوّر کی حقیقت کیا ھے
جانے ان خوابوں کی قسمت میں سحر ھے کہ نہیں
جانے تو کون ھے، میں نے تجھے سمجھا کیا ھے
جانے تجھ کو بھی مِرے دل کی خبر ھے کہ نہیں !
تجھ کو معلوُم نہیں، تجھ کو بَھلا کیا معلوُم !
تجھ کو معلوم نہیں ، تجھ کو بھلا کیا معلوم !!
AddThis
Saturday, 10 March 2018
حمایت علی شاعر
احمد ندیم قاسمی
اپنی آواز کی لرزش پہ تو قابو پا لو
پیار کے بول تو ہونٹوں سے نکل جاتے ہیں
اپنے تیور بھی سنبھالو کہ کوئی یہ نہ کہے
دل بدلتے ہیں تو چہرے بھی بدل جاتے ہیں
Thursday, 1 March 2018
انور مسعود
اب کہاں اور کسی چیز کی جا رکھی ہے
انور مسعود
اب کہاں اور کسی چیز کی جا رکھی ہے
دل میں اک تیری تمنا جو بسا رکھی ہے
سر بکف میں بھی ہوں شمشیر بکف ہے تو بھی
تو نے کس دن پہ یہ تقریب اٹھا رکھی ہے
دل سلگتا ہے ترے سرد رویے سے مرا
دیکھ اب برف نے کیا آگ لگا رکھی ہے
آئنہ دیکھ ذرا کیا میں غلط کہتا ہوں
تو نے خود سے بھی کوئی بات چھپا رکھی ہے
جیسے تو حکم کرے دل مرا ویسے دھڑکے
یہ گھڑی تیرے اشاروں سے ملا رکھی ہے
مطمئن مجھ سے نہیں ہے جو رعیت میری
یہ مرا تاج رکھا ہے یہ قبا رکھی ہے
گوہر اشک سے خالی نہیں آنکھیں انورؔ
یہی پونجی تو زمانے سے بچا رکھی ہے
عبید اللہ علیم
عزیز اِتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے
اب اِسقدر بھی نہ چاہو کہ دَم نِکل جائے
ملے ہیں یوں تو بُہت ، آئو اب مِلے یوں بھی
کہ روح گرمئِ انفاس سے پگھل جائے
محبتوں میں عجب ہے دِلوں کو دھڑکا سا
کہ جانے کون کہاں راستہ بدل جائے
رہے وہ دِل جو تمنائے تازہ تر میں رہے
خوشا وہ عمر جو خوابوں ہی میں بہل جائے
میں وہ چراغِ سرِ راہگزارِ دُنیا ہوں
جو اپنی زات کی تنہائیوں میں جل جائے
ہر ایک لحظہ یہی آرزو ، یہی حسرت
جو آج دِل میں ہے وہ شعر میں بھی ڈھل جائے
Saturday, 24 February 2018
Tuesday, 20 February 2018
اسد ملتانی
اِن عَقل کے بَندوں میں آشفتہ سَری کیوں ہے
یہ تَنگ دِلی کیوں ہے یہ تنگ نظری کیوں ہے
اسرار اگر سمجھے دنیا کی ہر اِک شے کے
خود اپنی حقیقت سے یہ بے خبری کیوں ہے
سو جلوے ہیں نظروں سے مانندِ نظر پِنہاں
دعوائے جہاں بینی اے دیدہ وَری کیوں ہے
حَل جن کا عَمل سے ہے پیکار و جَدل سے ہے
ان زِندہ مسائل پر بحث نظری کیوں ہے
تُو دیکھ ترے دِل میں ہے سوزِ طلب کِتنا
مَت پوچھ دُعاؤں میں یہ بے اَثری کیوں ہے
اے گُل جو بہار آئی ہے وقتِ خود آرائی
یہ رَنگِ جُنوں کیسا یہ جامہ دَری کیوں ہے
واعظ کو جو عادت ہے پیچیدہ بیانی کی
حیراں ہے کہ رِندوں کی ہَر بات کَھری کیوں ہے
مِلتا ہے اِسے پانی اَشکوں کی رَوانی ہے
معلوم ہوا کھیتی زَخموں کی ہَری کیوں ہے
الفت کو اَسد کتنا آسان سمجھتا ہے
اب نالۂ شب کیوں ہے آہِ سحری کیوں ہے
کلام اسد ملتانی
Monday, 5 February 2018
انور جلال پوری
انور جلال پوری
زلف کو ابر کا ٹکڑا نہیں لکھا میں نے
آج تک کوئی قصیدہ نہیں لکھا میں نے
جب مخاطب کیا قاتل کو تو قاتل لکھا
لکھنوی بن کے مسیحا نہیں لکھا میں نے
میں نے لکھا ہے اسے مریم و سیتا کی طرح
جسم کو اس کے اجنتا نہیں لکھا میں نے
کبھی نقاش بتایا کبھی معمار کہا
دست فنکار کو کاسہ نہیں لکھا میں نے
تو مرے پاس تھا یا تیری پرانی یادیں
کوئی اک شعر بھی تنہا نہیں لکھا میں نے
نیند ٹوٹی کہ یہ ظالم مجھے مل جاتی ہے
زندگی کو کبھی سپنا نہیں لکھا میں نے
میرا ہر شعر حقیقت کی ہے زندہ تصویر
اپنے اشعار میں قصہ نہیں لکھا میں نے
انور جلال پوری