AddThis

Welcome, as the name suggests, this blog is all about fantasy, literature, art and storytelling. Feedback/suggestions are welcomed. Enjoy! and follow for regular updates...
Showing posts with label urdu. Show all posts
Showing posts with label urdu. Show all posts

Monday, 2 April 2018

استاد دامن

دَس کھاں شہر لہور اندر، کنِے بُوہے تے کنِیاں بارِیاں نیں؟
نالے دَس کھاں اوتھوں دِیاں اِٹاں، کنِیاں ٹٹُیاں تے کنِیاں سارِیاں نیں؟
دَس کھاں شہر لہور اندر کھُوہیاں کنِیاں مٹِھیاں تے کنِیاں کھارِیاں نیں؟
ذرا سوچ کے دیویں جواب مینوں، اوتھے کنِیاں ویاہیاں تے کنِیاں کنواریاں نیں؟

دَساں میں شہر لہور اندر، لکھاں بُوہے تے لکھاں ای بارِیاں نیں!
جنِہاں اِٹاں تے دھر گئے پیر عاشق، اوہی او ٹٹُیاں تے باقی سارِیاں نیں!
جنہاں کھُوہیاں توں بھرن معشوق پانی، اوہی او مٹِھیاں تے باقی کھارِیاں نیں!
تے جیہڑیاں بہندیاں اپنے نال سجناں دے، اوہی او ویاہیاں تے باقی کنواریاں نیں !

(استاد دامن)

احمد فراز

کروں نہ یاد مگر کس طرح بھلاؤں اسے
غزل بہا نہ کروں اور گنگناؤں اسے

وہ خار خار ہے شاخِ گلاب کی مانند
میں زخم زخم ہوں پھر بھی گلے لگاؤں اسے

یہ لوگ تذکرے کرتےہیں اپنے لوگوں کے
میں کیسے بات کروں،اب کہاں سے لاؤں اسے

مگر وہ زود فراموش ، زود رنج بھی ہے
کہ روٹھ جائے ، اگر یاد کچھ دلاؤں اسے

وہی جو دولتِ دل ہے وہی جو راحتِ جاں
تمہاری بات پہ اے ناصحو ، گنواؤں اسے

جو ہم سفر سرِ منزل بچھڑ رہا ہے فراز
عجب نہیں ہے اگر یاد بھی نہ آؤں اسے

Sunday, 1 April 2018

دو سطری

چاند چہرہ حجاب آنکھیں ہیں

کتنی وہ لاجواب آنکھیں ہیں

مرزا رفیع سودا

بدلا ترے ستم کا کوئی تجھ سے کیا کرے
اپنا ہی تو فریفتہ ہووے خدا کرے
قاتل ہماری نعش کو تشہیر ہے ضرور
آئندہ تا کوئی نہ کسی سے وفا کرے
اتنا لکھائیو مرے لوحِ مزار پر
یاں تک نہ ذی حیات کو کوئی خفا کرے
بلبل کو خونِ گُل میں لٹایا کروں، مجھے
نالے کی گر چمن میں تُو رخصت دیا کرے
فکرِ معاش و عشقِ بتاں، یادِ رفتگاں
اس زندگی میں اب کوئی کیا کیا کِیا کرے
عالم کے بیچ پھر نہ رہے رسمِ عاشقی
گر نیم لب کوئی ترے شکوے سے واکرے
گر ہو شراب و خلوت و محبوبِ خوب رو
زاہد قسم ہے تجھ کو، جو تُو ہو تو کیا کرے؟
تعلیمِ گریہ دُوں اگر ابرِ بہار کو
جز لختِ دل صدف میں نہ گوہر بندھا کرے
تنہا نہ روزِ ہجر ہی سودا پہ ہے ستم
پروانہ ساں وصال کی ہر شب جلا کرے
(مرزا رفیع سودا)

Tuesday, 27 March 2018

اعتبار ساجد

کوئی کیسا ہمسفر ہے، یہ ابھی سے مت بتاؤ
ابھی کیا پتا کسی کا کہ چلی نہیں ہے ناؤ

یہ ضروری تو نہیں ہے کہ سدا رہیں مراسم
یہ سفر کی دوستی ہے اسے روگ مت بناؤ

مرے چارہ گر بہت ہیں، یہ خلش مگر ہے دل میں
کوئی ایسا ہو کہ جس کو،ہوں عزیز میرے گھاؤ

تمہیں آئینہ گری میں، ہے بہت کمال حاصل
مرا دل ہے کرچی کرچی، اسے جوڑ کر دکھاؤ

کوئی قیس تھا تو ہوگا، کوئی کوہکن تھا، ہوگا
مرے رنج مختلف ہیں، مجھے ان سے مت ملاؤ

مجھے کیا پڑی ہے ساجد کہ پرائی آگ مانگوں
میں غزل کا آدمی ہوں، مرے اپنے ہیں الاؤ

اعتبار ساجد

Monday, 26 March 2018

فردوس گیاوی

نہ میں یقین میں رکّھوں نہ تُو گمان میں رکھ
ہے سب کی بات تو پھر سب کے درمیان میں رکھ

وہ دھوپ میں جو رہے گا تو روپ کھو دے گا
چھپا لے سینے میں پلکوں کے سائبان میں رکھ

مرے  بدن  کو  تو. اپنے  بدن  کی آنچ  نہ دے
جو ہو سکے تو مری جان اپنی جان  میں رکھ

نہ  بیٹھنے  دے  کبھی  عزم  کے  پرندے  کو
اُڑان  بھول  نہ  جائے ، سدا  اُڑان  میں  رکھ

محبتیں  نہیں  ملتیں  محبتوں  کے  بغیر
اُسے نہ بھول تو فردوس اپنے دھیان میں رکھ

(فردوس گیاوی)

Sunday, 25 March 2018

دو سطری

کِس نے بھیگے ہوئے بالوں سے یہ جھٹکا پانی۔
جُھوم  کے  آئی  گھٹا   ٹوٹ  کے  برسا  پانی۔

Friday, 23 March 2018

ابنِ انشاء

شامِ غم کی سحر نہیں ہوتی
یا ہمیں کوخبر نہیں ہوتی

ہم نے سب دکھ جہاں کے دیکھے ہیں
بے کلی اس قدر نہیں ہوتی

نالہ یوں نا رسا نہیں رہتا
آہ یوں بے اثر نہیں ہوتی

چاند ہے، کہکشاں ہے تارے ہیں
کوئی شے نامہ بر نہیں ہوتی

ایک جاں سوز و نامراد خلش
اس طرف ہے اُدھر نہیں ہوتی

دوستو، عشق ہے خطا لیکن
کیا خطا درگزر نہیں ہوتی

رات آکر گزر بھی جاتی ہے
اک ہماری سحر نہیں ہوتی

بے قراری سہی نہیں جاتی
زندگی مختصر نہیں ہوتی

ایک دن دیکھنے کو آجاتے
یہ ہوس عمر بھر نہیں ہوتی

حُسن سب کو خدا نہیں دیتا
ہر کسی کی نظر نہیں ہوتی

دل پیالہ نہیں گدائی کا
عاشقی در بہ در نہیں ہوتی

Monday, 19 March 2018

آنکھیں

اُس کی آنکھوں کا وہی رنگ ہے جھیلوں جیسا
خاص جرگوں میں___ قبائل کی دلیلوں جیسا

تیری صورت سے عالم میں بہاروں کو ثبات
تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے

اکھیاں ہور کسے نوں کیوں ویکھن 
جدو کھوٹ ایمان اچ کوئی نہی....!
تیرے دل دیاں یار خدا جانے 
ساڈا ہور جہاں وچ کوئی نہیں

آپ کی آنکھیں اگر شعر سنانے لگ جائیں
ہم جو غزلیں لیے پھرتے ہیں ٹھکانے لگ جائیں

 
سنا ہے حشر ہیں اس کی غزال سی آنکھیں..
سنا ہے ہرن اسے دشت بھر کے دیکھتے ہیں...

اس کی آنکھیں بتاوں،کیسی ہیں؟
جھیل سیف الملوک جیسی ہیں

Friday, 16 March 2018

داغ

تو ہے مشہور دل آزار یہ کیا
تجھ پر آتا ہے مجھے پیار یہ کیا

جانتا ہوں کہ میری جان ہے تو
اور میں جان سے بیزار یہ کیا

پاؤں‌ پر اُنکے گِرا میں‌ تو کہا
دیکھ ہُشیار خبردار یہ کیا

تیری آنکھیں تو بہت اچھی ہیں
سب انہیں کہتے ہیں بیمار یہ کیا

کیوں مرے قتل سے انکار یہ کیوں
اسقدر ہے تمہیں دشوار یہ کیا

سر اُڑاتے ہیں وہ تلواروں سے
کوئی کہتا نہیں سرکار یہ کیا

ہاتھ آتی ہے متاعِ الفت
ہاتھ ملتے ہیں خریدار یہ کیا

خوبیاں کل تو بیاں ہوتی تھیں
آج ہے شکوۂ اغیار یہ کیا

لے لیے ہم نے لپٹ کر بوسے
وہ تو کہتے رہے ہر بار یہ کیا

وحشتِ دل کے سوا اُلفت میں
اور ہیں سینکڑوں آزار یہ کیا

ضعف رخصت نہیں دیتا افسوس
سامنے ہے درِ دلدار یہ کیا

باتیں سنیے تو پھڑک جائیے گا
گرم ہیں‌ داغ کے اشعار یہ کیا

Thursday, 15 March 2018

بہزاد لکھنوی

دیوانہ بنانا ہے تو دیوانہ بنا دے
ورنہ کہیں تقدیر تماشہ نہ بنا دے

اے دیکھنے والو مجھے ہنس ہنس کے نہ دیکھو
تم کو بھی محبت کہیں مجھ سا نہ بنا دے

میں ڈھونڈ رہا ہوں میری وہ شمع کہاں ہے
جو بزم کی ہر چیز کو پروانہ بنا دے

آخر کوئی صورت بھی تو ہو خانۂ دل کی
کعبہ نہیں بنتا ہے تو بت خانہ بنا دے

بہزاد ہر اک گام پہ اک سجدہء مستی
ہر ذرے کو سنگِ درِ جاناناں بنا دے

Wednesday, 14 March 2018

داغ

(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)​
​جب کہا اور بھی دنیا میں حسیں اچھے ہیں​
کیا ہی جھنجلا کے وہ بولے کہ ہمیں اچھے ہیں​

نہ اُٹھا خواب عدم سے ہمیں ہنگامہء حشر​
کہ پڑے چین سے ہم زیرِ زمیں اچھے ہیں​

کس بھروسے پہ کریں تجھ سے وفا کی اُمید​
کون سے ڈھنگ ترے جان حزیں اچھے ہیں​

خاک میں آہ ملا کر ہمیں، کیا پوچھتے ہو​
خیر جس طور میں ہم خاک نشیں اچھے ہیں​

ہم کو کوچے سے تمہارے نہ اُٹھائے اللہ​
صدقے بس خلد کے کچھ ہم تو یہیں اچھے ہیں​

نہ ملا خاک میں، تو ورنہ پشیماں ہوگا​
ظلم سہنے کو ہم اے چرخ بریں اچھے ہیں​

دل میں کیا خاک جگہ دوں ترے ارمانوں کو​
کہ مکاں ہے یہ خراب اور مکیں اچھے ہیں​

مجھ کو کہتے ہیں رقیبوں کی بُرائی سن کر​
وہ نہیں تم سے بُرے بلکہ کہیں اچھے ہیں​

بُت وہ کافر ہیں کہ اے داغ خدا اُن سے بچائے​
کون کہتا ہے یہ غارتگر دیں اچھے ہیں​

Monday, 12 March 2018

عدم

یوں ہی درست ہوگی طبیعت تری عدمؔ
کمبخت بھول جا کہ طبیعت اداس ہے
توبہ تو کر چکا ہوں مگر پھر بھی اے عدمؔ
تھوڑا سا زہر لا کہ طبیعت اداس ہے
.....
ہنس کے آپ جھوٹ بولتے ہیں
دل میں کتنی مٹھاس گھولتے ہیں
دنیا کتنی حسین لگتی ہے
آپ جب مسکرا کر بولتے ہیں
......
یہ سمجھ کے سچ جانا ہم نے تیری باتوں کو
اتنے خوب صورت لب جھوٹ کیسے بولیں گے
.....
عدم

عمر خیام

عمر خیام (ترجمہ)
نوجوانی کے عہدِ رنگیں میں
جز مےِ ناب اور کیا پینا
ایک ہی خاصیت ہے دونوں کی
تلخ ہے جام، تلخ ہے جینا

عطا شاد

پارساؤں  نے  بڑے  ظرف  کا  اظہار  کیا
ہمیں  سے  پی  اور  ہمیں  رسوا  سرِ  بازار  کیا

رات پھولوں کی نمائش میں وہ خوش جسم سے لوگ
آپ  تو  خواب  ہوئے  اور  ہمیں  بیدار  کیا

درد  کی  دھوپ  میں  صحرا  کی  طرح  ساتھ  رہے
شام  آئی  تو  لپٹ  کر  ہمیں  دیوار  کیا

کچھ  وہ  آنکھوں  کو  لگے  سنگ  پہ  سبزے  کی  طرح
کچھ  سرابوں  نے  ہمیں  تشنۂ  دیدار  کیا

سنگساری  میں  تو  وہ  ہاتھ  بھی  اٹھا  تھا  عطاّ
جس  نے  معصوم  کہا  جس  نے  گنہ  گار  کیا

عطاّء شاد

Saturday, 10 March 2018

حمایت علی شاعر

( حمایت علی شاعر)
تجھ کو معلوُم نہیں، تجھ کو بَھلا کیا معلوُم !
تیری زُلفیں، تری آنکھیں ، ترے عارض، ترے ھونٹ
کیسی انجانی سی معصُوم خطا کرتے ھیں
اتنا مانوس ھے تیرا ھر اِک انداز کہ دِل
تیری ھر بات کا افسانہ بنا لیتا ھے
ترے ترشے ہوئے پیکر سے چُرا کر کچھ رنگ
اپنے خوابوں کا صنم خانہ سجا لیتا ھے
خلوتِ بزم ہو یا جلوتِ تنہائی ہو
ترا پیکر مِری نظروں میں اُتر آتا ہے
کوئی ساعت ہو، کوئی فکر ہو، کوئی ماحول
مجھ کو ہر سمت تِرا حُسن نظر آتا ھے
چلتے چلتے جو قدم آپ ٹھٹھک جاتے ھیں
سوچتا ہوں کہ کہیں توُ نے پُکارا تو نہیں
گمُ سی ہو جاتی ہیں نظریں، تو خیال آتا ھے
اِس میں پنہاں تِری آنکھوں کا اِشارہ تو نہیں
جانے اِس حُسنِ تصوّر کی حقیقت کیا ھے
جانے ان خوابوں کی قسمت میں سحر ھے کہ نہیں
جانے تو کون ھے، میں نے تجھے سمجھا کیا ھے
جانے تجھ کو بھی مِرے دل کی خبر ھے کہ نہیں !
تجھ کو معلوُم نہیں، تجھ کو بَھلا کیا معلوُم !
تجھ کو معلوم نہیں ، تجھ کو بھلا کیا معلوم !!

احمد ندیم قاسمی

اپنی آواز کی لرزش پہ تو قابو پا لو
پیار کے بول تو ہونٹوں سے نکل جاتے ہیں
اپنے تیور بھی سنبھالو کہ کوئی یہ نہ کہے
دل بدلتے ہیں تو چہرے بھی بدل جاتے  ہیں

Thursday, 1 March 2018

انور مسعود

اب کہاں اور کسی چیز کی جا رکھی ہے
انور مسعود
اب کہاں اور کسی چیز کی جا رکھی ہے
دل میں اک تیری تمنا جو بسا رکھی ہے

سر بکف میں بھی ہوں شمشیر بکف ہے تو بھی
تو نے کس دن پہ یہ تقریب اٹھا رکھی ہے

دل سلگتا ہے ترے سرد رویے سے مرا
دیکھ اب برف نے کیا آگ لگا رکھی ہے

آئنہ دیکھ ذرا کیا میں غلط کہتا ہوں
تو نے خود سے بھی کوئی بات چھپا رکھی ہے

جیسے تو حکم کرے دل مرا ویسے دھڑکے
یہ گھڑی تیرے اشاروں سے ملا رکھی ہے

مطمئن مجھ سے نہیں ہے جو رعیت میری
یہ مرا تاج رکھا ہے یہ قبا رکھی ہے

گوہر اشک سے خالی نہیں آنکھیں انورؔ
یہی پونجی تو زمانے سے بچا رکھی ہے

عبید اللہ علیم

عزیز اِتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے
اب اِسقدر بھی نہ چاہو کہ دَم نِکل جائے
ملے ہیں یوں تو بُہت ، آئو اب مِلے یوں بھی
کہ روح گرمئِ انفاس سے پگھل جائے
محبتوں میں عجب ہے دِلوں کو دھڑکا سا
کہ جانے کون کہاں راستہ بدل جائے
رہے وہ دِل جو تمنائے تازہ تر میں رہے
خوشا وہ عمر جو خوابوں ہی میں بہل جائے
میں وہ چراغِ سرِ راہگزارِ دُنیا ہوں
جو اپنی زات کی تنہائیوں میں جل جائے
ہر ایک لحظہ یہی آرزو ، یہی حسرت
جو آج دِل میں ہے وہ شعر میں بھی ڈھل جائے

Tuesday, 20 February 2018

اسد ملتانی

اِن عَقل کے بَندوں میں آشفتہ سَری کیوں ہے
یہ تَنگ دِلی کیوں ہے یہ تنگ نظری کیوں ہے

اسرار اگر سمجھے دنیا کی ہر اِک شے کے
خود اپنی حقیقت سے یہ بے خبری کیوں ہے

سو جلوے ہیں نظروں سے مانندِ نظر پِنہاں
دعوائے جہاں بینی اے دیدہ وَری کیوں ہے

حَل جن کا عَمل سے ہے پیکار و جَدل سے ہے
ان زِندہ مسائل پر بحث نظری کیوں ہے

تُو دیکھ ترے دِل میں ہے سوزِ طلب کِتنا
مَت پوچھ دُعاؤں میں یہ بے اَثری کیوں ہے

اے گُل جو بہار آئی ہے وقتِ خود آرائی
یہ رَنگِ جُنوں کیسا یہ جامہ دَری کیوں ہے

واعظ کو جو عادت ہے پیچیدہ بیانی کی
حیراں ہے کہ رِندوں کی ہَر بات کَھری کیوں ہے

مِلتا ہے اِسے پانی اَشکوں کی رَوانی ہے
معلوم ہوا کھیتی زَخموں کی ہَری کیوں ہے

الفت کو اَسد کتنا آسان سمجھتا ہے
اب نالۂ شب کیوں ہے آہِ سحری کیوں ہے

کلام اسد ملتانی