احمد ندیم قاسمی
گلی کے موڑ پہ بچوں کے ایک جمگھٹ میں
کسی نے درد بھری لے میں ماہیا گایا
مجھے کسی سے محبت نہیں مگر اے دل
یہ کیا ہوا کہ تو بے اختیار بھر آیا
احمد ندیم قاسمی
گلی کے موڑ پہ بچوں کے ایک جمگھٹ میں
کسی نے درد بھری لے میں ماہیا گایا
مجھے کسی سے محبت نہیں مگر اے دل
یہ کیا ہوا کہ تو بے اختیار بھر آیا
میرا کوئی بھی نہیں ، کائنات بھر میں ندیم
اگر خدا بھی نہ ھوتا تو میں کدِھر جاتا
(احمّد ندیم قاسمی)
خدا کرے کہ تری عمر میں گنے جائیں
وہ دن جو ہم نے ترے ہجر میں گزارے تھے
احمد ندیم قاسمی
لبِ خاموش سے افشا ہوگا
راز ہر رنگ میں رسوا ہوگا
دل کے صحرا میں چلی سرد ہوا
ابر گلزار پہ برسا ہوگا
تم نہیں تھے تو سر بام خیال
یاد کا کوئی ستارہ ہوگا
کس توقع پہ کسی کو دیکھیں
کوئی تم سے بھی حسیں کیا ہوگا
زینت حلقۂ آغوش بنو
دور بیٹھو گے تو چرچا ہوگا
جس بھی فن کار کا شہکار ہو تم
اس نے صدیوں تمہیں سوچا ہوگا
آج کی رات بھی تنہا ہی کٹی
آج کے دن بھی اندھیرا ہوگا
کس قدر کرب سے چٹکی ہے کلی
شاخ سے گل کوئی ٹوٹا ہوگا
عمر بھر روئے فقط اس دھن میں
رات بھیگی تو اجالا ہوگا
ساری دنیا ہمیں پہچانتی ہے
کوئی ہم سا بھی نہ تنہا ہوگا
اپنی آواز کی لرزش پہ تو قابو پا لو
پیار کے بول تو ہونٹوں سے نکل جاتے ہیں
اپنے تیور بھی سنبھالو کہ کوئی یہ نہ کہے
دل بدلتے ہیں تو چہرے بھی بدل جاتے ہیں
تجھے اظہار محبت سے اگر نفرت ہے !
تُو نے ہونٹوں کو لرزے سے تو روکا ہوتا
بے نیازی سے ، مگر کانپتی آواز کے ساتھ
تُو نے گھبرا کے مِرا نام نہ پوچھا ہوتا
تیرے بَس میں تھی اگر مشعل ِ جذبات کی لَو
تیرے رُخسار میں گلزار نہ بھڑکا ہوتا
یوں تو مجھ سے ہوئیں صرف آب و ہوا کی باتیں
اپنے ٹوٹے ہوئے فقروں کو تو پَرکھا ہوتا
یُونہی بے وجہ ٹھٹکنے کی ضرورت کیا تھی
دَم ِ رخصت میں اگر یاد نہ آیا ہوتا
تیرا غماز بنا خود ترا انداز ِ خرام
دل نہ سنبھلا تھا تو قدموں کو سنبھالا ہوتا
اپنے بدلے مِری نظر آجاتی
تُو نے اُس وقت اگر آئینہ دیکھا ہوتا
حوصلہ تجھ کو نہ تھا مجھ سے جُدا ہونے کا
ورنہ کاجل تری آنکھوں میں نہ پھیلا ہوتا