AddThis

Welcome, as the name suggests, this blog is all about fantasy, literature, art and storytelling. Feedback/suggestions are welcomed. Enjoy! and follow for regular updates...
Showing posts with label نصیرالدین نصیر. Show all posts
Showing posts with label نصیرالدین نصیر. Show all posts

Sunday, 21 April 2019

پیر نصیرالدین نصیر گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ

قیس و فرہاد کو یک گو نہ رہا مجھ سے خلوص
جب بھی دیکھا تو پکار اٹھے کہ استاد آیا

وہ بھی ملتا جو گلے سے تو خوشی عید کی تھی
کوئی رہ رہ کے نصیر آج بہت یاد آیا

Thursday, 1 November 2018

پیر نصیر الدین گولڑوی

تجھ سا نہ تھا کوئی ، نہ کوئی ہے حسیں کہیں
تُو بے مثال ہے ترا ثانی نہیں کہیں

اپنا جنوں میں مدِ مقابل نہیں کہیں
دامن کہیں ، جیب کہیں ، آستیں کہیں

زاہد کے سامنے جو ہو وہ نازنیں کہیں
دل ہو کہیں حُضور کا دُنیا و دیں کہیں

اک تیرے آستاں پہ جھکی ہے ہزار بار
ورنہ کہاں جھُکی ہے ہماری جبیں کہیں

دل کا لگاؤ ، دل کی لگی ، دل لگی نہیں
ایسا نہ ہو کہ دل ہی لُٹا دیں ہمیں کہیں

کیا کہیئے کس طرف گئے جلوے بکھیر کے
وہ سامنے تو تھے ابھی میرے یہیں کہیں

گزرے گی اب تو کوچہِ جاناں میں زندگی
رہنا پڑے گا اب ہمیں جا کر وہیں کہیں

دل سے تو ہیں قریب جو آنکھوں سے دُور ہیں
موجود آس پاس ہیں وہ بالیقیں کہیں

نظروں کی اور بات ہے دل کی ہے اور بات
باتیں جو میرے دل میں ہیں اب تک نہیں کہیں

اے تازہ واردانِ چمن ! ہوشیار باش
بجلی چمک رہی ہے چمن کے قریں کہیں

میرا ضمیر اپنی جگہ پر ہے مطمئن
اپنا سمجھ کے ان سے جو باتیں کہیں ' کہیں

دل نے بہت کہا کہ تمہیں مہرباں کہوں
اِس ڈر سے چُپ رہا کہ نہ کہہ دو نہیں ، کہیں

آتے ہی ہم تو کوچہِ جاناں میں لُٹ گئے
دل کھو گیا نصیر ہمارا یہیں کہیں

Saturday, 13 October 2018

پیر نصیر الدین نصیر گولڑوی

بے خودی میں نہ رہی ہم کو نصیر اپنی خبر
ہوش آیا تو ہمیں جلوہءِ جاناں نکلے

Wednesday, 1 August 2018

پیر نصیر الدین نصیر گولڑوی

آگئیں چل کے ہوائیں تیرے دیوانے تک
اب یہی لے کے چلیں گی اُسے میخانے تک

کوئی چھیڑے نہ مجھے عہدِ بہار آنے تک
میں پہنچ جاؤں گا خود جھوم کے میخانے تک

آکے خود رقص کیا کرتا ہے جل جانے تک
شمعِ سوزاں کبھی جاتی نہیں پروانے تک

آنا جانا تو ہے واعظ ! میرے کاشانے تک
ایک دن آپ چلے آؤ گے میخانے تک

اب نقاہت کا یہ عالم ہے کہ اُٹھتے نہیں ہاتھ
صرف نظریں ہی پہنچ سکتی ہیں پیمانے تک

اِس کڑے وقت میں احباب نہ کام آئیں گے
تشنگی دے گی سہارا مجھے میخانے تک

دھیان زاہد کا خدا تک کسی صورت نہ گیا
دسترس تھی اُسے تسبیح کے ہر دانے تک

تجھ کو بھولے سے بھی مَیں بُھول سکوں، ناممکن
یہ تعلق تو رہے گا میرے مر جانے تک

دل پہ عالم یہ گُھٹن کا ، یہ صبا کے غمزے
دیکھئے کیا ہو ، تری زلف کے لہرانے تک

راہ دُشوار نہیں ، سنگ نہیں ، خار نہیں
مُطمئن ہو کے وہ آئیں میرے کاشانے تک

تم تو اپنے تھے ، نہ تھی تم سے یہ اُمّید ہمیں
کوئی مرتا ہو تو آ جاتے ہیں بیگانے تک

آج کل بیخودیِ شوق کا عالم ہے عجیب
کہیں مَیں آپ نہ کھو جاؤں تجھے پانے تک

موت برحق ہے ، مگر آخری خواہش یہ ہے
سانس چلتی رہے میری ، تیرے آ جانے تک

بات کرنی ہے نکیرین سے تنہا سب کو
ساتھ رہتے ہیں یہ احباب تو دفنانے تک

مَسندِ پیرِ مغاں دُور بہت ہے مجھ سے
ہاتھ اُٹھ کر بھی پہنچتے نہیں پیمانے تک

قدم اُٹھتے نہیں ، اب ضعف کا عالم ہے نصیرؔ
کوئی لے جاۓ مجھے تھام کے میخانے تک

پیر نصیر الدین نصیر

Sunday, 29 July 2018

پیر نصیرالدین نصیر گولڑوی

دن ڈھلا ، شام ہوئی،چاند ستارے نکلے
تم نے وعدہ تو کیا،گھرسے نہ پیارے ! نکلے

دوست جتنے تھے,وہ دشمن مِرے سارے نکلے
دم بھرا میرا,طرفدار تمھارے نکلے

اور پھر اور ہیں,اوروں کا گِلہ کیا کرنا
ہم نے پرکھا جو تمھیں,تم نہ ہمارے نکلے

غم و آلام کے ماروں کا بُہت تھا چرچا
وہ بھی کم بخت،تِرے عشق کے مارے نکلے

وائے قسمت کہ نہ راس آئی مُحبت ہم کو
ہائے تقدیر کہ وہ بھی نہ ہمارے نکلے

جیتے جی ہم نہ ہلے اپنے ٹھکانے سے نصیر !
اُن کے کُوچے سے جنازے ہی ہمارے نکلے

Tuesday, 10 July 2018

پیر نصیرالدین نصیر گولڑوی

ہم سا بھی ہوگا جہاں میں کوئی ناداں جاناں
بے رُخی کو بھی جو سمجھے ترا احساں جاناں

جب بھی کرتی ہے مرے دل کو پریشاں دُنیا
یاد آتی ہے تری زُلفِ پریشاں جاناں

میں تری پہلی نظر کو نہیں بھولا اب تک
آج بھی دل میں ہے پیوست وہ پیکاں جاناں

ہمسُخَن ہو کبھی آئنیے سے باہر آ کر
اے مری روح ! مرے عکسِ گریزاں جاناں

دشتِ گلرنگ ہے کس آبلہ پا کے خوں سے
کر گیا کون بیاباں کو گلستاں جاناں

مجھ سے باندھے تھے بنا کر جو ستاروں کو گواہ
کر دئیے تُو نے فراموش وہ پیماں جاناں

کبھی آتے ہوئے دیکھوں تجھے اپنے گھر میں
کاش پورا ہو مرے دل کا یہ ارماں جاناں

اک مسافر کو ترے شہر میں موت آئی ہے
شہر سے دور نہیں گورِ غریباں جاناں

یہ ترا حُسن ، یہ کافر سی ادائیں تیری
کون رہ سکتا ہے ایسے میں مسلماں جاناں

کیوں تجھے ٹوٹ کے چاہے نہ خُدائی ساری
کون ہے تیرے سوا یوسفِ دوراں جاناں

نغمہ و شعر مرے ذوق کا حصّہ تو نہ تھے
تیری آنکھوں نے بنایا ہے غزلخواں جاناں

جاں بہ لب، خاک بسر،آہ بہ دل خانہ بدوش
مجھ سا بھی کوئی نہ ہو بے سرو ساماں جاناں

یہ تو پوچھ اس سے کہ جس پر یہ بلا گُزری ہے
کیا خبر تجھ کو کہ کیا ہے شبِ ہجراں جاناں

وہ تو اک نام تمہارا تھا کہ آڑے آیا
ورنہ دھر لیتی مجھے گردشِ دوراں جاناں

یہ وہ نسبت ہے جو ٹوٹی ہے نہ ٹوٹے گی کبھی
میں ترا خاکِ نشیں تو میرا سلطاں جاناں

کیا تماشہ ہو کہ خاموش کھڑی ہو دنیا
میں چلوں حشر میں کہتے ہوا جاناں جاناں

در پہ حاضر ہے ترے آج نصیرِؔ عاصی
تیرا مجرم، ترا شرمندہِ احساں جاناں​

Sunday, 27 May 2018

پیر نصیرالدین نصیر گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ

حقیقت اور ہی کچھ ہے، مگر ہم کیا سمجھتے ہیں
جو اپنا ہو نہیں سکتا اُُسے اپنا سمجھتے ہیں

یہ درسِ اوّلیں مجھ کو مِلا میرے بزرگوں سے
بہت چھوٹے ہیں وہ اوروں کو جو چھوٹا سمجھتے ہیں

نہ جانے کیوں‌ ہماری اُن کی اک پَل بھی نہیں بنتی
جو اپنا قبلہءِ دل ، دولتِ دُنیا سمجھتے ہیں

اُمیدِ التّفاتِ دوستاں نے راز یہ کھولا
ہم اُن کو کیا سمجھتے ہیں وہ ہم کو کیا سمجھتے ہیں

بہ ہر دَم ایک نادیدہ معیّت سے مُشّرف ہوں
غلط فہمی ہے اُن کی جو مجھے تنہا سمجھتے ہیں

اُن اہلِ فقر کی اس شانِ استغنا کا کیا کہنا
جو تاجِ خُسروی کو خاکِ زیرِ پا سمجھتے ہیں

کسی کے حرفِ حق پر تُو عمل پیرا ہو اے واعظ!
ترے حق میں اِسے ہم کوششِ بے جا سمجھتے ہیں

خدا و مصطفٰی سے ہٹ کے، وہ ہیں سخت دھوکے میں
جو اپنی ذات کو تنقید سے بالا سمجھتے ہیں

بُرے، اچھوں کو بھی اچھا نہیں گردانتے لیکن
جو اچھے ہیں، بُرے لوگوں کو بھی اچھا سمجھتے ہیں

اُسی کے دَم سے رونق ہے نصؔیر اِس بزمِ عالم میں
جمالِ یار کو ہم انجمن آرا سمجھتے ہیں

Thursday, 12 October 2017

نصیرالدین نصیر

بہلتے کس جگہ ، جی اپنا بہلانے کہاں جاتے
تری چوکھٹ سے اُٹھ کر تیرے دیوانے کہاں جاتے

نہ واعظ سے کوئی رشتہ، نہ زاہد سے شناسائی
اگر ملتے نے رندوں کو تو پیمانے کہاں جاتے

خدا کا شکر ، شمعِ رُخ لیے آئے وہ محفل میں
جو پردے میں چُھپے رہتے تو پروانے کہاں جاتے

اگر ہوتی نہ شامل رسمِ دنیا میں یہ زحمت بھی
کسی بے کس کی میّت لوگ دفنانے کہاں جاتے

اگر کچھ اور بھی گردش میں رہتے دیدہِ ساقی
نہیں معلوم چکّر کھا کے میخانے کہاں جاتے

خدا آباد رکّھے سلسلہ اِس تیری نسبت کا
وگرنہ ہم بھری دنیا میں پہچانے کہاں جاتے

نصیرؔ اچھا ہوا در مل گیا اُن کا ہمیں ، ورنہ
کہاں رُکتے ، کہاں تھمتے ، خدا جانے کہاں جاتے​

Sunday, 10 September 2017

نصیرالدین نصیر

میری زندگی تو فراق ہے، وہ ازل سے دل میں مکیں سہی

وہ نگاہِ شوق سے دور ہیں، رگِ جاں سے لاکھ قریں سہی

ہمیں جان دینی ہے ایک دن، وہ کسی طرح ، وہ کہیں سہی

ہمیں آپ کھینچئے دار پر، جو نہیں کوئی تو ہمیں سہی

سرِ طور ہو، سرِ حشر ہو، ہمیں انتظار قبول ہے

وہ کبھی ملیں، وہ کہیں ملیں، وہ کبھی سہی، وہ کہیں سہی

نہ ہو اُن پہ جو مرا بس نہیں، کہ یہ عاشقی ہے ہوس نہیں

میں اُن ہی کا تھا، میں اُن ہی کا ہوں، وہ مرے نہیں، تو نہیں سہی

جوہو وہ فیصلہ وہ سُنائیے، اسے حشر پر نہ اُٹھائیے

جو کریں گے آپ ستم وہاں، وہ ابھی سہی، وہ یہیں سہی

اسے دیکھنے کی جو لو لگی، تو نصیر دیکھ ہی لیں گے ہم

وہ ہزار آنکھ سے دور ہو، وہ ہزار پردہ نشیں سہی