دن گزر جائیں گے سرکار کوئی بات نہیں
زخم بھر جائیں گے سرکار کوئی بات نہیں
آپ کا شہر اگر بار سمجھتا ہے ہمیں
کوچ کر جائیں گے سرکار کوئی بات نہیں
آپ کے جور کا جب ذکر چھڑا محشر میں
ہم مکر جائیں گے، سرکار کوئی بات نہیں
رو کے جینے میں بھلا کون سی شیرینی ہے
ہنس کے مر جائیں گے سرکار کوئی بات نہیں
نکل آئے ہیں عدم سے تو ججھکنا کیسا
در بدر جائیں گے سرکار کوئی بات نہیں
AddThis
Welcome, as the name suggests, this blog is all about fantasy, literature, art and storytelling. Feedback/suggestions are welcomed.
Enjoy! and follow for regular updates...
Showing posts with label عدم. Show all posts
Showing posts with label عدم. Show all posts
Sunday, 9 September 2018
عبد الحمید عدم
Wednesday, 6 September 2017
عبد الحمید عدم
اس کو کہتے ہیں اچانک ہوش میں آنے کا نام
رکھ دیا دانش کدہ، رندوں نے میخانے کا نام
حُور ہے، رعنائیِ نسواں کا اک نقلی لباس
خلد ہے، زاہد کے دانستہ بہک جانے کا نام
آپ پر بھی وار ہو دل کا، تو پوچھیں آپ سے
عشق بیماری کا غلبہ ہے کہ افسانے کا نام
بے رُخی کیا ہے؟ لگاوٹ تیز کرنے کا عمل
دلبری کیا ہے؟ مکمل طوق پہنانے کا نام
زندگی ہے، دوسروں کے حکم پر مرنے کا جشن
موت ہے، اپنی رضامندی سے مر جانے کا نام
آگہی کیا ہے؟ مسلسل خود فریبی کا چلن
روشنی کیا ہے؟ فریبِ مستقل کھانے کا نام
ہیں عدم کے ذکر پر، کیوں آپ اتنے پُر غضب
شمع کے ہمراہ، آ جاتا ہے پروانے کا نام
Subscribe to:
Comments (Atom)