میں وہ مجنوُں ہُوں ،کہ مجنُوں بھی ہمیشہ خط میں
قبلہ و کعبہ لِکھا کرتا ہے القاب مجھے
کُنجِ تنہائی میں دیتا ہُوں دِلاسے کیا کیا
دِلِ بیتاب کو مَیں، اور دِلِ بے تاب مجھے
شیخ محمد ابراہیم ذوق
AddThis
Welcome, as the name suggests, this blog is all about fantasy, literature, art and storytelling. Feedback/suggestions are welcomed.
Enjoy! and follow for regular updates...
Showing posts with label ذوق. Show all posts
Showing posts with label ذوق. Show all posts
Sunday, 1 July 2018
ذوق
Monday, 18 June 2018
ابراہیم ذوق
ساقیا عید ہے، لا بادے سے مینا بھر کے
کہ مے آشام پیاسے ہیں مہینا بھر کے
آشناؤں سے اگر ایسے ہی بے زار ہو تُم
تو ڈبو دو انہیں دریا میں سفینا بھر کے
عقدِ پرویں ہے کہ اس حقۂ پرویں میں مَلَک
لاتے ہیں اُس رخِ روشن سے پسینا بھر کے
دل ہے، آئینہ صفا چاہیے رکھنا اِس کا
زنگ سے دیکھ نہ بھر اس میں تو کینا بھر کے
روز اس گلشنِ رُخسار سے لے جاتے ہیں گُل
اپنے دامانِ نظر، مردمِ بینا بھر کے
خُمِ پُر جوش کے مانند چھلکتا ہے مدام
خونِ حسرت سے لبوں تک مرا سینا بھر کے
جام خالی بھی لگا منہ سے نہ کم ظرف کے ساتھ
ذوقؔ کے ساتھ، قدح ذوقؔ سے پینا بھر کے
(شیخ ابراہیم ذوقؔ)
Subscribe to:
Comments (Atom)